پاکستان پاکستان24

قیدیوں کو رہا نہ کیا جائے: سپریم کورٹ

مارچ 30, 2020

قیدیوں کو رہا نہ کیا جائے: سپریم کورٹ

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے 408 قیدیوں کی رہائی کے فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

سپریم کورٹ نے دیگر ہائیکورٹس کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کے فیصلے بھی معطل کر دیے۔ عدالت عظمی نے قیدیوں کی رہائی پر عملدرآمد فوری طور پر روکنے کا حکم دیا ہے۔

ہائی کورٹس نے قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا تھا۔ صوبائی حکومتوں نے قیدیوں کو رہا کرنے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لاجر بینچ نے مقدمے کی سماعت کی تو اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے سپریم کورٹ گائیڈ لائن طے کرے کیونکہ ہائیکورٹس مختلف فیصلے دے رہی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کرونا وائرس ایک سنجیدہ مسئلہ ہے لیکن اس وجہ سے سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کی رہائی کی اجازت نہیں دے سکتے، ہمیں پتہ ہے ملک کو کن حالات کا سامنا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے جائزہ لیں گے اسلام آباد ہائیکورٹ نے کس اختیار کے تحت قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا،ہائی کورٹس ازخود نوٹس کا اختیار کیسے استعمال کر سکتی ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ آفت میں لوگ اپنے اختیارات سے باہر ہو جائیں۔جسٹس سجاد علی شاہ بولے اس انداز سے ضمانتیں دینا ضمانت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کسی نے ایک ہفتہ پہلے جرم کیا وہ باہر آجائے گا،ایسی صورت میں شکایت کنندہ کے جذبات کیاہونگے،جن کی دو تین ماہ کی سزائیں باقی ہیں انھیں چھوڑ دیں،اختیارات سے باہر نہیں جائیں گے۔جسٹس قاضی امین بولے ہمارا دشمن مشترکہ ہے،ہمیں خوفزدہ ہونے کے بجائے پر سکون رہ کر فیصلہ کرنا ہے۔عدالت نے شیخ ضمیر حسین کو عدالتی معاون مقرر کر دیا۔

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹس اور صوبائی حکومتوں کو قیدیوں کو رہا کرنے کے مذید احکامات دینے سے بھی روک دیا۔

عدالت نے وفاق، تمام صوبائی حکومتوں، آئی جی اسلام آباد، انتظامیہ کو نوٹسز جاری کر دیے۔ صوبائی ہوم سیکرٹریز، آئی جیز جیل خانہ جات، پراسیکیوٹر جنرل نیب، اے این ایف کو بھی نوٹس جاری کر دیے گئے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے