’گھر جیلوں سے زیادہ خطرناک ہوگئے ہیں‘
پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کورونا وائرس سے نمٹنے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
پیر کو سپریم کورٹ میں قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ شیریں مزاری تو کہتی ہیں کہ سب کو چھوڑ دو، سرکاری رپورٹس میں صرف اجلاسوں کی تفصیل ہے عملی کام کچھ نہیں۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
چیف جسٹس نے معاون خصوصی برائے صحت کی قابلیت پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ ڈاکٹر ظفر مرزا صاحب کی کیا اہلیت اور قابلیت ہے، بس روزانہ کی بنیاد پر ڈاکٹر ظفر مرزا صاحب کی پروجیکشن ہو رہی ہے۔
چیف جسٹس نے وزیراعظم عمران خان سمیت کسی کا نام لیے بغیر مزید کہا سب کا زور صرف مفت راشن تقسیم کرنے پر ہے، صوبوں کے وزرائے اعلی گھر بیٹھ کر احکامات جاری کر رہے ہیں، پانچ سو ملین آپس میں بانٹ دیے گئے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ’ملک بھر کے تمام ہسپتال بند کر دیے گئے ہیں، یہ کیسی ہیلتھ ایمرجنسی ہے کہ کوئی ہسپتال یا کلینک کھلا نہیں، اپنی اہلیہ کو بیمار ہونے پر ہسپتال لے کر جانا چاہتا تھا، مجھے بتایا گیا کہ تمام ہسپتال بند پڑے ہیں۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کرونا کے علاوہ تمام مریض اللہ کے آسرے پر چھوڑ دیے گئے ہیں، شوگر، دل کے مریض اور دیگر بیماریوں کی اموات کرونا سے زیادہ ہوگئی ہیں، وزارت صحت نے تو سپریم کورٹ کا کلینک بھی بند کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی حکومت ڈلیور نہیں کر رہی سب کو پیسے کی پڑی ہے، ٹی وی پر بیٹھ کر صرف ہاتھ دھونے اور گھر رہنے کی باتیں کر رہے ہیں۔
اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب کی جیل میں کل ایک قیدی کو کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جیلوں سے زیادہ گھر خطرناک ہوگئے ہیں، لوگوں کو گھروں میں رکھ رہے ہیں وہاں کچن بھی ہیں جہاں لوگ زیادہ خطرے میں ہیں۔ جسٹس قاضی امین نے کہا کہ عدالت قیدیوں کیلئے جیلوں کے دروازے نہیں کھول سکتی، حکومت کو اس کا کوئی حل نکالنا ہوگا۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جن لوگوں کو کورونا ہے انکو باقی لوگوں سے الگ رکھیں، حکومت کو چاہیے جیلوں میں حفاظتی اقدامات کرے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا کہ وزارت دفاع کا نمائندہ کہاں ہے؟
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزارت دفاع کو نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ ہمیں سوسائٹی میں انصاف قائم رکھنا ہے۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت قیدیوں کے لیے جیلوں کے دروازے نہیں کھول رہی، سپریم کورٹ کے پاس (3)184 کا اختیار ہے۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ پاکستان میں اراکین پارلیمنٹ پارلیمنٹ جانے سے کیوں ڈرتے ہیں، یورپ اور امریکہ نے جیلوں میں قیدیوں کے حوالے سے نہ صرف قانون بنائے ہیں بلکہ عملدرآمد بھی شروع کر دیا ہے۔

