رہائی پانے والوں کی دوبارہ گرفتاری کا حکم
سپریم کورٹ نے رہا کیے گئے قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دیے دیا ہے جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے قیدیوں کی ضمانت کے فیصلے بھی کالعدم قرار دے دیے ہیں۔
جہانزیب عباسی
سپریم کورٹ نے دائر درخواست کو مفاد عامہ کے تحت قابل سماعت قرار دے دیا، عدالت نے سنگین جرائم نیب اور منشیات کے مقدمہ میں دی گئی ضمانتیں منسوخ کردیں گئیں.
دوسری جانب سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل نے جیلوں سے قیدیوں کی رہائی/ ضمانتوں بارے تجاویز پیش کی ہیں.
تجاویز میں کہا گیا ہے کہ خواتین اور بچوں پر تشدد میں ملوث انڈر ٹرائل ملزمان کو ضمانت پر رہائی نہیں ملنی چاہیے،ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا انڈر ٹرائل قیدیوں کو ضمانت پررہائی ملنی چاہیے اگر اُن کے جرم کی سزا تین سال سے کم ہے،تین سال تک سال سزا کے جرم میں قید انڈر ٹرائل خواتین اور بچوں کو ضمانت پر رہا کیا جائے،ایسے سزا یافتہ قیدی جو سزا پوری کر چکے ہیں لیکن جرمانہ ادا نہیں کر سکتے اُنہیں رہا کر دینا چاہیے،ایسی خواتین اور بچے جو 75 فیصد سزا مکمل کر چکے ہیں اُنہیں رہا کر دیا جانا چاہیے،ایسے قیدی جو بچوں اور خواتین پر تشدد میں ملوث نہیں اگر اُن کی سزا 6 ماہ سے کم رہ گئی ہے تو اُنہیں رہا کیا جائے، ایسی خواتین اور بچے جن کی سزا ایک سال سے کم رہ گئی ہے اُنہیں بھی رہا کیا جائے.

