دو کروڑ نہیں 35 لاکھ ماسک چین بھجوائے
پاکستان کی وزارت قومی صحت نے دو کروڑ ماسک سمگل کرنے کےالزامات بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرائی ہے۔
پیر کو رپورٹ میں وزارت صحت نے عدالت کو بتایا ہے کہ صرف 35 لاکھ ماسک چینی حکومت کی درخواست پر پانچ کمپنیوں کو برآمد کیے گئے۔
عدالت کو بتایا گیا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) معاملے کی تحقیقات بھی کر رہی ہے۔
کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس میں وزارت صحت نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کراتے بتایا ہے کہ ملک سے دو کروڑ اسمگل کرنے کے الزامات بےبنیاد ہیں، صرف 35 لاکھ ماسک چین کی حکومت کی درخواست پر پانچ چینی کمپنیوں کوایکسپورٹ کئے گئے، اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کر رہا ہے، ملک میں فیس ماسک کی کمی نہیں۔
رپورٹ کےمطابق این آئی ایچ میں کورونا وائرس کےمریضوں اوران کےرابطہ داروں کےٹیسٹس مفت کئےجا رہےہیں، ڈریپ کی سفارش پرپروٹوٹائیپ وینٹی لیٹرز مقامی سطح پر بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
وزارت صحت کےمطابق سولائسنس ہولڈرز کو ڈبلیو ایچ او کے اسٹینڈرڈزکے مطابق 300 کمپنیوں کو سینیٹائزر بنانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اپریل کےآخر تک 20 ہزار ٹیسٹ کرنے کے اہل ہو جائیں گے جبکہ گزشتہ چوبیس گھنٹے میں 6416 ٹیسٹ کیے گئے۔
رپورٹ کےمطابق پی پی ایز کی قیمت مستحکم رکھنے کے لیے ملک میں 100 سے زائد چھاپےمارے گئے، کورونا کےعلاج کےدوران متاثر ہو کر مرنے والے طبی عملی کے لیے خصوصی پیکج تیاری کےمرحلےمیں ہے۔

