لاک ڈاؤن کے خاتمے پر پہلا کام کیا؟
دنیا کے 200 کے لگ بھگ ملکوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن ہے۔ اس دوران دفاتر بند اور شہریوں کو انتہائی ضروری کام کے سوا گھروں سے باہر نکلنے نہیں دیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں بھی لاک ڈاؤن کو ایک ماہ کا عرصہ ہو گیا ہے اور کروڑوں شہری گھروں میں اپنا وقت گزار رہے ہیں۔
اس دوران ہزاروں افراد سوشل میڈیا کے ذریعے لاک ڈاؤن کے خاتمے پر کیے جانے والوں کاموں کی فہرست ترتیب دے رہے ہیں۔
پاکستان 24 نے واٹس ایپ کے ذریعے سینکڑوں شہریوں سے پوچھا کہ وہ لاک ڈاؤن کے خاتمے پر پہلا کام کیا کریں گے؟۔
اسلام آباد کی رہائشی فائزہ اسد فاروقی نے کہا کہ وہ لاک ڈاؤن کے ختم ہونے پر سب سے پہلے اپنے دوستوں سے ملنے جائیں گی۔
رئیس حیدر کا کہنا تھا کہ وہ لاک ڈاؤن کے خاتمے پر اللہ کا شکر ادا کریں گے اور پھر زندگی کے معمولات کا آغاز کریں گے۔

مس زوارہ نے پاکستان ٹوئنٹی فور کے سوال کے جواب میں کہا کہ ’فش اور چپس کھانے باہر جانا ہے اور شوٹ کی کمٹمنٹ پوری کرنی ہے۔‘
بینکنگ کے شعبے سے وابستہ راحیل احمد ملک نے بتایا کہ وہ مسجد جا کر باجماعت نماز ادا کریں گے۔
مناہل خالد کا کہنا تھا کہ عید کے کپڑے لینے اور کھانا کھانے باہر جائیں گی۔
عبدالوہاب نے کہا کہ وہ لاک ڈاؤن کے خاتمے پر سب سے پہلے دوستوں کے ساتھ ڈھابے کی چائے اور پھر اپنے پسندیدہ ریستوران سے کھانا کھانے جائیں گے۔

نجی نیوز چینل سے منسلک زارا خالد نے بتایا کہ وہ دوستوں کے ساتھ شاپنگ اور لنچ پر جائیں گی۔
خرم انصاری نے لاک ڈاؤن کے خاتمے پر سب سے پہلے دفتر جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
ماریہ انجم نے کہا کہ وہ لاک ڈاؤن ختم ہونے پر سب سے پہلے اپنے ہاسٹل جائیں گی کیونکہ ان کے سارے کپڑے وہاں پڑے ہوئے ہیں۔
سیدہ مہوش حسین نے کا کہنا تھا کہ درزی کو کپڑے دینے جائیں گی اور واپسی پر پارلر سے ہو کر آئیں گی۔
مس معصومہ نے کہا کہ وہ لاک ڈاون کے خاتمے پر سوئمنگ اور جم جوائن کریں گی۔

لاہور سے ریحان ہاشمی نے بتایا کہ وہ احتیاطی تدابیر اپنا کر شاپنگ کرنے جائیں گے اور اپنی اہلیہ اور بیٹی کے لیے کپڑے خریدیں گے۔
کائنات مرتضٰی نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے خاتمے پر وہ سب سے پہلے اپنے موبائل فون کے لیے چارجر خریدنے جائیں گی۔
نثاراں اسرار نے بتایا کہ وہ عمرے کے لیے مکہ میں ہیں اور جیسے ہی حالات بہتر ہوں گے پاکستان واپس جائیں گی۔
پپلاں سے محمد عمیر کا کہنا تھا کہ وہ دستوں سے ملاقاتیں کریں گے اور لاک ڈاؤن کے قصوں پر سیر حاصل گفتگو ہوگی۔
ریحانہ اعجاز نے بتایا کہ وہ دوستوں سے ملنے جائیں گی۔ حسن زاہد خان نے کہا کہ وہ اپنے کزنز کے ساتھ شکار پر جانے کا پروگرام بنائے ہوئے ہیں۔
ساہیوال سے شبانہ اویس کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے خاتمے اور وبا سے نجات پر شکرانے کے نوافل ادا کریں گی۔
اسلام آباد سے صحافی عدیل سرفراز نے جواب دیا کہ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ امریکن سٹیک ہاؤس سے کھانا کھانے جائیں گے۔ میانوالی سے فائزہ زبیر نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کو سیر کرانے لے کر جائیں گی۔

اسلام آباد میں نجی ٹی وی سے منسلک وقار حیدر کا کہنا تھا کہ وہ سب سے پہلے نائی کے پاس بال کٹوانے جائیں گے۔
مہک فاطمہ نے کہا کہ وہ اسلام آباد کے روسٹر کیفے کا برگر کھانے جائیں گی۔ ریاض نجم نے بتایا کہ وہ نائی کے پاس جانے کے بعد اپنے والدین سے ملنے آبائی علاقے بھلوال جائیں گے۔
صحافی سدرہ سعید کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دوستوں سے ملنے جائیں گی۔
پاکستان میں لاک ڈاؤن اپریل کے اختتام تک ہے اور اس کے بعد حکومت نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا دفاتر اور معمولات زندگی کو مکمل طور پر بحال کیا جائے یا احتیاطی تدبیر کے طور پر مزید کچھ عرصے لوگوں کو گھروں تک محدود رکھا جائے۔
خیال رہے کہ اس دوران رمضان کا مہینہ شروع ہو جائے گا اور بہت سے دفاتر کے اوقات کار تبدیل ہو جائیں گے جبکہ عام لوگوں کے معمولات میں بھی اس ماہ میں تبدیلی آتی ہے۔

