سندھ حکومت نئی بلدیاتی حلقہ بندیوں کی مخالف
رپورٹ: عبدالجبار ناصر
سندھ حکومت نے صوبے میں نئی بلدیاتی حلقہ بندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ اس عمل کو روک دیا جائے کیونکہ چھٹی مردم شماری 2017ء کی آبادی کا تنازع ابھی تک مشترکہ مفادات کونسل میں ہے جبکہ دوسری طرف صوبے میں انتظامیہ کی جانب سے نئی بلدیاتی حلقہ بندی کمیٹیوں میں مداخلت کا چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان نے سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کہاہے کہ الیکشن کمیشن کے کام میں کسی ادارے، سرکاری افسران، اشخاص کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی اور سندھ سے الیکشن کمیشن کے ممبرنثار احمد درانی اس کی تحقیقات کریں ۔
ذرائع کے مطابق سیکریٹری بلدیات حکومت سندھ روشن علی شیخ نے الیکشن کمیشن کے نام خط میں صوبے میں نئی بلدیاتی حلقہ بندیوں کی مخالفت کی ہے اور الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ اس کام کو روک دیا جائے کیونکہ چھٹی مردم شماری 2017ء میں آبادی کا تنازع ابھی تک حل نہیں ہوا ہے۔ یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں ہے، اس تنازع کے حل تک نئی بلدیاتی حلقہ بندی کمیٹیوں کو کام سے روک دیا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 13 اپریل کو جاری نوٹیفیکشن میں سندھ کے بلدیاتی ایکٹ 2013ء سیکشن 20(4) کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے ضلعی الیکشن کمشنرز سے کہاتھا کہ سندھ میں بلدیاتی ادارے اپنی چار سالہ قانونی مدت اگست 2020ء میں مکمل کر رہے ہیں، انتخابی ایکٹ 2017ء کے سیکشن 219 اور بلدیاتی ایکٹ 2013ء کے سیکشن 21(3)کے مطابق الیکشن کمیشن پابند ہے کہ 120 دن میں صوبے میں بلدیاتی انتخابات یقینی بنائیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے سندھ حکومت کو بھی آگاہ کیا تھا کہ بلدیاتی ایکٹ 2013؍ء میں ترامیم ، نقشے اور دیگر ضروری معلومات الیکشن کمشن کو فوری فراہم کریں تاکہ جلد نئی بلدیاتی حلقہ بندیاں کی جاسکیں ۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ہدایت پر سندھ کے 29 ضلعی الیکشن افسران نے 5 مختلف کیٹگریوں کے بلدیاتی اداروں کی سندھ میں نئی بلدیاتی حلقہ بندیوں کے لئے 29 ضلعی کمیٹیوں کے لئے 100 سے زائد افسران کے نام فراہم کئے ہیں اور یہ کمیٹیاں 1700 سے زائد یونین کمیٹیوں، یونین کونسلوں ، ٹائون کمیٹیوں ، میونسپل کمیٹیوں اور7600 سے زائد وارڈز کی نئی حدبندیاں کریں گی ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ کے محکمہ بلدیات نے الیکشن کمیشن کونئی حلقہ بندیوں کے لئے بلدیاتی ایکٹ 2013ء میں ترامیم ، نقشے اور دیگر مواد فراہم کرنے کی بجائے الیکشن کمیشن کی نئی بلدیاتی حلقہ بندی کمیٹیوں کو کام سے روکنے کے لئے خط لکھا ہے اور حلقہ بندیوں کی مخالفت کی ہے۔
دریں اثناء چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان نے ڈپٹی کمشنر شکارپور کی جانب سے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر شکارپور کو میٹنگ میں بلانے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے سندھ سے الیکشن کمیشن کے ممبر نثار احمد درانی کو واقعے کی تحقیقات کی ہدایت اور کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے کام میں کسی ادارے، سرکاری افسران، اشخاص کی مداخلت برداشت نہیں، رپورٹ الیکشن کمیشن میں جلد پیش کی جائے۔
ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن سندھ نے چند روز قبل شکار پور میں بلدیاتی حلقہ بندیوں پر کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جس پر ڈپٹی کمشنر رحیم بخش میتلو کو اعتراضات تھے، اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر نے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر ظہیر احمد سہتو کو دفتر میں بلا کرتلخی کی گئی ۔ جس پر ظہیر احمد سہتو ظہیر احمد سہتو نے صوبائی الیکشن کمشنر کو خط میں ڈپٹی کمشنر شکار پور کے اس عمل سے آگا کیا ہے اور کہا کہ ڈپٹی کمشنر ان کے کام میں نہ صرف مداخلت کر رہے ہیں ، بلکہ کمیٹی میں مخصوص نام شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، ان حالات میں کام کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
اس رپورٹ پر حکومت سندھ کا موقف معلوم کرنے کے لئے صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات سید ناصر حسین شاہ اور حکومت سندھ کے ترجمان بیریسٹر مرتضیٰ وہاب صدیقی سے رابطہ کیا گیا۔مرتضی وہاب صدیقی نے نئی بلدیاتی حلقہ بندیوں کی کمیٹیوں کے حوالے سے محکمہ بلدیات حکومت سندھ کے موقف کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست ہے اور آئین بھی یہی کہتا ہے۔

