ڈرامہ ارطغرل کے پیچھے کیا مقاصد ہیں؟
غلام اصغر ساجد ۔ ترکی
کم از کم تین سال قبل دریلش ارطغرل دیکھنا شروع کی تھی۔ دن رات ایک کر کےاس کو ختم کیا اور جب یہاں ترکی آیا تب پانچواں سیزن لائیو دیکھا کرتا تھا۔ بہت محنت سے تیار کیا گیا ڈرامہ ہے، بیان البتہ ادبی ہے، یہ اپنا پیغام اور پرسیپشن بنانے میں انتہائی کامیاب رہا ہے۔
اس طرح کے کئی ڈرامے بنائے گئے ہیں، پائے تخت عبدالحمید ان میں سے زیادہ جدید زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔ ان ڈراموں کا ترکی میں موجود سیاسی بیانیے سے گہرا تعلق ہے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان نے ینی کاپی میدان میں لاکھوں شہریوں سے خود پوچھا کہ کیا وہ پائے تخت عبدالحمید دیکھ رہے ہیں۔ عثمانیت ترک سیاست میں واپس لوٹ چکی ہے۔ عثمانی دور کی اشیاء کو ترک ثقافت اور سیاست میں واپس لایا جا چکا ہے۔
ترک صدر ایردوان کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ عثمانی ترک واپس آ چکے ہیں لیکن اس کا قطعاً مطلب نہیں اس کا سب سے زیادہ فائدہ ترک صدر ایردوان کو ہوا ہے۔ بلکہ ہم صرف سیاسی میدان کو ہی دیکھیں تو دو واقعات ہوئے ہیں۔ ترک ملیت حرکت پارٹی کے دو ٹکڑے ہوئے نئی پارٹی İYİ پارٹی بنی جو کائی قبیلے کا علامتی نام تھا۔
ملیت حرکت پارٹی اور İYİ پارٹی میں تقسیم کے باوجود مجموعی طور پر ان کے ووٹوں میں اضافہ ہوا۔ ترک صدر ایردوان کی آق پارٹی اور بانی ترکی مصطفےٰ کمال اتاترک سے منسوب جمہوریت خلق پارٹی کے ووٹوں میں کمی کا ٹرینڈ رہا۔
دوسرا واقعہ سابق وزیراعظم احمدت داؤد اولو نے نئی مستقبل پارٹی کی بنیاد رکھی اور اس کا لوگو چنار کا پتہ تھا۔ چنار سلطنت عثمانیہ کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
جب ہم عثمانی ترک نیشنلزم کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب کوئی روایتی قوم پرستی نہیں ہوتا۔ ترکوں کا عروج ہمیشہ اسلام پسندی کے ساتھ نظر آیا ہے، چاہے ہم اسے سلطنت عثمانیہ کی بنیادوں میں دیکھیں یا پھر مشرق کے بجائے مغرب کی طرف دوڑتے ان کے گھوڑوں اور چلتی تلواروں کو۔ یا پھر 2002ء کے بعد کے ترکی کو دیکھیں۔
ترک اسلام سے دور ہوں تو وہ مرد بیمار بنیں گے اور کمزور رہیں جیسے ہی وہ اسلام کو تھامیں گے اندر سے بھی قوت پکڑیں گے اور دور تک اپنے وجود کو ثابت کریں گے۔ اس لیے ترکی کی موجودہ زندہ سیاسی تحریک ایسے ہی ترکوں کی ہے۔ ایردوان نہیں ہو گا، ایردوان کا کوئی جانشین بھی نہیں ہو گا لیکن یہ تحریک خود اپنی قیادت تیار کرتی، امکانات میں کھیلتی مستقبل قریب نہ سہی بعید میں بہت بڑا کردار ادا کرے گی۔
میں ان ترک ڈراموں کو اس سیاسی تحریک میں بطور ایندھن دیکھتا ہوں لیکن وسیع نقطہ نظر میں بڑے کینوس میں بنائے گئے ان ڈراموں سے کئی لوگ اپنے اپنے سیاسی اور نظریاتی فوائد اٹھانا چاہتے ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کی بڑی آبادیاں، دریلش ارطغرل کو دیکھنے کا ریکارڈ توڑنے کے درپے ہیں۔
پاکستانی سماج پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہونے کو ہیں اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ہر طبقہ حرکت میں ہے اس سے اپنے نظریات اور سیاست کے لیے مفاد اٹھانے والے بھی اور اسے اپنے نظریات کے لیے خطرناک سمجھنے والے بھی۔ ہر دونوں اس موقع پر اپنے قدموں سے اکھڑ چکے ہیں۔
وہ اسلامی طبقات بھی جن کی خواتین کے چہروں سے پردے کا سرکنا گویا کفر کی طرف قدم رکھنا ہے وہ بھی اپنے لیے امکانات ڈھونڈتے ڈھونڈتے مردوں کے برابر ترک خود مختار عورت کے کردار کو قبول کرنے کو تیار ہیں۔ عمران خان بھی محی الدین ابن العربی کی روحانیت کے زیرسایہ آگے بڑھتے ارطغرل میں اپنے آپ کو دیکھتے ہیں۔
دوسری طرف مخالف طبقہ ایسا ہے کہ جن کے دل بالی وڈ اور لالی وڈ کے فکشن اور ایڈونچر کھینچ لیتا ہے، انہیں ترک فکشن اور ڈراموں میں اپنی ثقافت اور روایت کی موت دکھائی دینے لگی ہے۔ ہیرو پر چلنے والی فلموں اور ڈراموں کو ذوق و شوق سے دیکھنے والوں کو ارطغرل غازی میں شخصیت پسندی نظر آتی ہے۔ ایڈونچر فلموں میں آگ کے بگولے دیکھنے والوں کو تلوار سے خوف محسوس ہونے لگا ہے۔
یارو! کچھ خدا کا خوف کرو، نکلو اپنے بند کنوؤں سے، سیکھنے کی اس دنیا میں بہت کچھ ہے سیکھنے کو لیکن عمل کرنے کے لیے پھر بھی اپنی خرد سے کام لینا ہے۔ ورنہ کئی ڈرامے آئے اور گئے۔ نسیم حجازی کے ناولوں اور ڈراموں نے کون سا انقلاب برپا کر دیا۔ بات کچھ اور ہے۔

