’اسلام آباد میں قبضہ مافیا کا راج ہے‘
پاکستان نے سپریم کورٹ میں پلاٹ پر قبضے کے کیس میں ملزم صدام حسین کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پولیس کو تفتیش میں بہتری لانے کی ہدایت کی ہے۔
چیف جسٹس نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کی سرزںش کرتے ہوئے کہا کہ اپنی فورس کی کارکردگی کو دیکھیں، افسران اور اہلکاروں کے کام کو بہتر بنائیں۔
جہانزیب عباسی، صحافی ۔ اسلام آباد
عدالت نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ سپریم کورٹ نے تفتیشی افسر تصدق حسین شاہ کے خلاف محکمانہ کارروائی کی رپورٹ بھی طلب کر لی۔
عدالت نے آئی جی کو تفتیشی افسران کی تفتیش میں رہنمائی کے لیے سالانہ کتابچہ چھاپنے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ قتل، اغواء، قبضوں اور حادثات کے مقدمات میں تفتیش کا کتابچہ ہونا چاہیے، پاکستان بننے کے بعد یہ پہلا سبق تھا جو تفتیشی افسران کو دینا چاہیے تھا۔
اسلام آباد پولیس کے سربراہ عامر ذوالفقار نے بتایا کہ تفتیشی افسر کو تفتیش میں غفلت پر شوکاز نوٹس پہلے ہی ہو چکا ہے، تفتیشی کے کام میں خامیوں پر انکوائری چل رہی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سارے تفتیشی افسران کے ساتھ یہی مسئلہ ہے، آئی او تفتیش کے لیے فیلڈ میں جانے کی زحمت نہیں کرتا۔ آخر کب ہمارا تفتیش کا طریقہ کار ٹھیک ہوگا۔
جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ایک مرلہ پلاٹ پر ایک شخص قتل اور چار زخمی ہو گئے، اسلام آباد میں قبضہ مافیا کا راج ہے، کوئی قبضہ مافیا کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا، تفتیشی نے صرف اتنا دیکھنا تھا،زمین کس کی،قبضہ کرنے کون آیا۔

