کالم

پاکستانی معیشت درست ہو سکتی ہے؟

مئی 13, 2020

پاکستانی معیشت درست ہو سکتی ہے؟

ان دنوں چونکہ لگاتار پاکستان کی معیشت کے عملی پہلو پر لکھا اس لیے جو سوال سب سے زیادہ پوچھا گیا وہ یہ تھا کہ پھر راستہ کیا ہے؟ ہم مایوس ہو جائیں کہ بہتری آ ہی نہیں سکتی؟ ایسا نہیں ہے کہ جس بات کا مجھ جیسے عام آدمی کو پتہ ہے اس بات کا اسٹیبلشمنٹ کے بزرجمہروں کا پتہ نہ ہو، یعنی موجودہ معیشت اپنے پورے ہوٹینشل پر آ کر بھی ہماری ضروریات سے کم ہے اور ہر آنے والے دن کے ساتھ یہ فاصلہ اور بڑھے گا، کیا وجہ ہے اس ملک کے مستقل حکمران طبقے نے عمران خان کی سوڈو اور جھوٹی باتوں کو نہ صرف پروموٹ کیا بلکہ ایک وقت تو ایسا لگتا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ تمام حقائق جاننے کے باوجود اپنے ہی جھوٹے پروپیگنڈا کا شکار ہوگئی تھی۔

وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہم آج جس نہج پر پہنچ چکے ہیں اس میں اسٹیبلشمنٹ کا حصہ سیاستدانوں سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ ان کا تیس سالہ دور اقتدار بلا شرکت غیرے اور کلی تھا جبکہ سیاستدانوں کا دور اقتدار معذور اور لولا لنگڑا تھا۔

پاکستان کی معاشی بقا اگر کسی چیز سے جڑی ہوئی ہے وہ ہے آمدن کے نئے ذرائع تلاش کرنا اور موجودہ آمدن کے ذرائع کو ہر آنے والے دن کے ساتھ بہتر کرنا۔

آمدن کے نئے ذرائع کیا ہوسکتے ہیں یہ وہ گھسا پٹا موضوع ہے جو آپ نے ہر حکومتی ترجمان سے سنا ہوگا یعنی ٹورازم، غیر روایتی یا کلچرل چیزوں کی مینوفیکچرنگ اور ایکسپورٹ، گوادر پورٹ کی ترقی اور ترویج اور نون لیگ کے دور میں آپ نے سی پیک کا چرچا سنا ہوگا۔

پرانے ذرائع آمدن کو بہتر کرنے کے لیے زراعت میں فی ایکٹر پیداوار کو بڑھانا تاکہ وہ مقابلہ جاتی فضا میں آمدن میں اضافہ کر سکے، فنی تعلیم کے ذریعے ان ہنر مند افراد کی تیاری جن کی دنیا کو ضرورت ہے، انڈسٹری میں بیسک کی بجائے ویلیو ایڈیشن کی چیزوں کی انڈسٹری کا لگنا اور ایکسپورٹ ہونا وغیرہ وغیرہ۔

جن لوگوں کی سیاست پر نظر ہے ان کو یہ سب باتیں بتانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ڈاکٹر محبوب الحق سے لے کر حفیظ شیخ تک سب نے یہی آموختہ سنایا لیکن کسی ایک سمت میں بھی رتی بھر سفر بھی طے نہیں ہوا، حتیٰ کہ کچھ چیزوں میں واضح تنزلی ہوئی جیسے سیاحت، فی ایکڑ پیداوار یا ہمارے انجینئیرز اور ڈاکٹرز جو دنیا کے بہترین ہنر مند افراد تھے اور اب یہ عالم ہے کہ وہ آسٹریلیا یا برطانیہ کا امتحان سات سات کوششوں میں پاس کرنے کے قابل نہیں ہوتے، گویا جتنا زیادہ شور مچا اتنی ہی زیادہ تنزلی بھی ہوئی۔

گویا ایسا نہیں ہے کہ سمت معلوم نہیں، ایسا بھی نہیں کہ یہ معلوم نہ ہو کہ اپنے ہدف کو کیسے پایا جاسکتا ہے، اور ایسا بھی نہیں ہے کہ سرے سے یہ کوشش ہوئی ہی نہیں، بلکہ معاملہ یہ ہے کہ اپنے ہدف کو پانے کی مربوط کوشش نہیں ہوئی۔

کون یہ مربوط کوشش کرتا؟ سال سال اور ڈیڑھ ڈیڑھ سال حکومت کرنے والے لوگ جنہیں ہر وقت دباوُ میں رکھا جاتا رہا؟ جنہیں ہر آن یہ خیال ستاتا رہا کہ کسی بھی لمحے دو اڑھائی سو گردش کرتی ہوئی سازشی تھیوریوں میں سے کوئی ایک سازش اصلی اور خالص والی نہ نکلے، جنہیں لانگ ٹرم پلاننگ کی بجائے شارٹ ٹرم پلاننگ ہی کرنی ہوتی تھی کیونکہ انہیں پھر عوام سے ووٹ لینے کے لیے کوئی پل یا انڈر پاس دکھانا ہوگا، کوئی پیلی ٹیکسی یا جلدی میں کسی آئی پی پی سے کیا ہوا معاہدہ دکھانا ہوگا۔

اس ملک کے آگے بڑھنے کے تمام تر امکانات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ بے یقینی کی کیفیت ہے جس نے ہر سول حکمران کے سامنے آن کر کھڑا ہونا ہوتا ہے۔

جب میں یہ بات کہتا ہوں کہ معاشی استحکام سے پہلے سیاسی استحکام کی منزل حاصل کرنی ہوگی، ملک میں موجود پولرائزیشن کو کم کرنے کی شعوری کوشش کرنی ہوگی، اس ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز کو کچھ نکات پر اکٹھا کرنا ہوگا تو جانتا ہوں کہ اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ عمران خان کا بیانیہ ہے، وہ بیانیہ جو یہ بتاتا ہے کہ ان کے مخالفین چور اور لٹیرے ہیں، ان کے حامی نیک اور پاک ہیں اور وہ دنیا کے واحد راست گو انسان ہیں، جو ان سے اختلاف رائے رکھے وہ لفافہ ہے، کرپشن کا ساتھی ہے اور اس کا اختلاف رائے اس کی بددیانتی کی وجہ سے ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے