پاکستان

بیوہ کی چیف جسٹس سے ازخود نوٹس کی اپیل

مئی 20, 2020

بیوہ کی چیف جسٹس سے ازخود نوٹس کی اپیل

اسلام آباد (رپورٹ : خالدہ شاہین رانا)
راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (آر آئی سی ) میں اتوار10مئی 2020 کو لگنے والی آگ کے موقع پر ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ مجرمانہ غفلت و لاپرواہی اور دل کے مریضوں کو لاوارث چھوڑ دینے کی وجہ سے مرنے والے امتیاز حسین کی بیوہ نے ہسپتال انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے چیف جسٹس گلزار احمد سے ا ز خود نوٹس لینے کی استدعا کی ہے۔

روبینہ گلشن بیوہ امتیاز حسین نے چیف جسٹس گلزار احمد کولکھے گئے ایک خط میں بیان کیا ہے کہ ’میرے میاں امتیاز حسین کو اتوار10مئی2020 کو دل کا دورہ پڑا ، جنہیں فوری طورپر آر آئی سی راولپنڈی منتقل کیا گیا ، جہاں ان کا علاج معالجہ شروع کر دیا گیا لیکن رات ساڑھے دس بجے کے قریب ہسپتال کی عمارت کے اندر پراسرار طور پر خوفناک آ گ لگ گئی۔ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے مجرمانہ غفلت و لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیسیوں سیریس مریضوں کولاوارث چھوڑ دیا گیا اور صرف اتنا کہا گیا کہ سب مریض اپنا اپنا بندوبست کرلیں۔‘

روبینہ گلشن نے لکھا ہے کہ ’میرے بیٹے نے کچھ لوگوں کی مدد سے اپنے والد کو کسی طرح باہر پارکنگ میں پہنچایا، تاہم معلوم ہوا کہ راولپنڈی، اسلام آباد کے تمام ہسپتالوں میں دل کے امراض سمیت تمام شعبے بند کرکے صرف کورونا وارڈز قائم کئے گئے ہیں، انہیں کافی وقت ضائع ہونے کے بعد بے نظیر بھٹو شہید ہسپتال پہنچا کر ایم ایس ڈاکٹر رفیق سے رابطہ کیا گیا تو پہلے تو انہوں کسی قسم کی مدد کرنے سے معذوری ظاہر کی لیکن جب انہیں آر آئی سی میں لگنے والی آگ سے پیدا ہونے والی خوفناک صورتحال سے آگاہ کیا گیا تو انہوں نے اپنی نگرانی میں فوری طور پر دل کے ڈاکٹروں کو بلوا کر میرے میاں سمیت کل 9 متاثرہ مریضوں کو ہسپتال میں داخل کر کے ان سب کی جانیں بچا لیں، تاہم اگلی صبح آر آئی سی کے ڈاکٹروں کی ایک فوج ظفر موج اپنی غفلت و لاپرواہی پر پردہ ڈالنے اور محض کارروائی کے لیے متعدد ایمبولینس لے کر بے نظیر بھٹو ہسپتال پہنچ گئی اور ان تمام مریضوں کو دوبارہ اپنے ہسپتال لے آئی، میرے میاں کو گزشتہ روز کافی دیر تک دھویں میں رہنے کی وجہ سے تکلیف شدید ہوگئی تھی اور وہ شدید ذہنی دبائو اور خوف کا شکارہونے کی وجہ سے گھر جانے کی ضد کررہے تھے جس پر آر آئی سی کے میڈیکل افسر ڈاکٹر احمد کمال نے دل کے مریضوں سے متعلق ایس او پیزکی بدترین پامالی کرتے ہوئے ڈسچارج سرٹیفکیٹ پر ’ڈسچارج آن ریکوسٹ‘ کا نوٹ لکھ کرانہیں گھر لے جانے کا کہا حالانکہ ایس او پیز کے تحت ہارٹ اٹیک کی صورت میں مریض کو48 گھنٹے تک انتہائی نگہداشت جبکہ اس کے بعد مزید 48 گھنٹے تک آبزرویشن میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔‘

بیوہ کے مطابق امتیاز حسین کو چکوال منتقل کیا گیا جہاں رات کو دوبارہ انہیں شدید تکلیف ہوئی اور ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کیا تو معلوم ہوا کہ انہیں دوسر ا اٹیک ہوا ہے اور پانچ سات منٹ کے بعد انہیں تیسرا اٹیک ہوا اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔

درخواست گزار کے مطابق ’میرے خاوند کی موت کی ذمہ دار آر آئی سی کی انتظامیہ ہے‘

درخواست گزار نے کہا ہے کہ ’میں تو بیوہ اور میرے بچے یتیم ہو گئے ہیں، لیکن آپ سے التماس ہے کہ خدارا، از خود نوٹس لے کر دیگر مریضوں کو بچا لیں۔‘

درخواست گزار نے اپنے خط کو ‘کورونا وائرس سے بچاؤ کے انتظامات سے متعلق از خود نوٹس کیس’ کے ساتھ یکجا کرکے درج ذیل سوالات کی صورت میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، وزارت صحت پنجاب اور آر آئی سی کی انتظامیہ سے جواب طلب کر نے کی استدعا کی ہے۔

سوالات: ’آگ کیسے لگی تھی؟ اس کی کیا وجہ تھی؟ اس میں کیا نقصان ہوا ہے؟ اوراس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

آگ لگنے کے موقع پر آر آئی سی میں داخل مریضوں کی ہنگامی بنیادوں پرعلاج معالجہ کے لئے مناسب رہنمائی اور مدد کے لئے وہاں پر کون ذمہ دار تھا ؟ کیا اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی انکوائری ہوئی ہے اور کیا ادارے نے آج کی تاریخ تک کسی کی ذمہ داری کا تعین کیا ہے ؟

کیا آر آئی سی انتظامیہ نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے کوئی قواعد وضوابط بنائے ہوئے ہیں؟ آیا کہ ملک بھر میں صرف کورونا ہی کا واحد خطرناک مرض رہ گیا ہے ، اگرچہ کورونا کامعاملہ بہت خطرناک ہے لیکن کیا ہارٹ اٹیک، ٹریفک حادثات یا دیگر ہنگامی نوعیت کے معاملات اتنے غیر اہم ہیں کہ اگرایک ہسپتال میں کوئی ہنگامی حالت پیدا ہوئی تھی تو تقریباً 30لاکھ کی آبادی کے جڑواں شہروں راولپنڈی، اسلام آباد میں ایک ہسپتال بھی ایسا نہیں تھا جہاں ہنگامی حالات میں دل کے مریضوں کو رکھا جاسکتا ؟

جس طرح بے نظیر بھٹو شہید ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر رفیق صاحب نے پیشہ ورانہ ایمانداری اور مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر ہسپتال میں 9مریضوں کو داخل کرکے ان کی جانیں بچائیں، کیا شہر کے دیگر ہسپتالوں کے سربراہوں کی یہ ذمہ داری نہیں تھی؟

آگ لگنے والے دن ہسپتال میں کل کتنے مریض تھے؟ ان میں سے کل کتنے مریض ڈسچارج کیے گئے؟ تمام مریضوں اور لواحقین کے رابطہ نمبر اور ایڈریس درج ہوتے ہیں، ان کے زندہ ہونے یا مرنے کی تصدیق کسی بھی تحقیقاتی ادارے کے ذریعے کرائی جا سکتی ہے۔

عدالت اس معاملے میں انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم صادر کرے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے