کرنل کی بیوی کی انٹرنیٹ توڑ دھوم
پاکستان میں ہزارہ موٹر پر روکے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والی فوج کے ایک کرنل اہلیہ کی کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد دیکھا ہے۔
بدھ کی شام سامنے آنے والی اس ویڈیو میں خاتون اپنی کار سے نکل کر مانسہرہ میں موٹروے ٹنل کے باہر کھڑے پولیس اہلکاروں سے الجھ رہی ہے۔
ٹوئٹر اور فیس بک پر اس ویڈیو کو دس ہزار سے زائد افراد نے شیئر کیا ہے جبکہ مختلف ٹائم لائنز پر اس کو ایک ملین سے زائد بار دیکھا گیا ہے۔
صحافی اعزاز سید نے ٹویٹ کیا ہے کہ آرمی چیف نے اس واقعہ کا نوٹس اس لیے لیا ہے کہ مبینہ طور پر خاتون کے شوہر کرنل نے بھی ماضی میں ٹریفک پولیس کے اہلکار سے بدتمیزی کی تھی۔
وکیل اسامہ خاور نے ماضی میں فوج کے اہلکاروں کی موٹروے پولیس کے اہلکاروں پر تشدد کی تصویر شیئر کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ یہ کون سے کرنل کی بیویاں تھیں؟ اور ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟
لندن سے محمد تقی نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو ٹیگ کر کے لکھا ہے کہ ’باقی تو سب اپنی جگہ مگر مجھے تو چونسٹھ ایف ایف کے ان کرنل صاحب پر ترس آرہا ہے کہ جن کی یہ خاتون زوجہ ہیں۔ @OfficialDGISPR ہماری طرف سے ہمدردی کا پیغام کرنل صاحب کو پہنچا دیں۔ وہ جنتی آدمی ہیں۔‘
جیو نیوز کی سابق اینکر رابعہ انعم نے ٹویٹ کیا کہ ’ایک صوبیدار کی کیا اوقات ہے میرے آگے‘۔ یہ صرف ایک جملہ نہیں، ایک باقاعدہ کیفیت کا نام ہے۔ کچھ لوگ اسی کیفیت میں پوری زندگی گزار دیتے ہیں اور اپنے راستے میں آنے والے ہر صوبیدار کو ماں بہن کی گالیوں سے نوازتے ہیں۔
کپل دیو نے واقعہ کی خبر کے حوالے سے اے آر وائے نیوز کی سکرین کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’ بااثر شخص کا نام ایسے نہیں لے رہے جیسے دیہاتوں میں بیوی اپنے شوہر کا نام نہیں لیتی۔‘


