جاپان کے لیے خصوصی فلائٹس چلانے کا مطالبہ
پاکستان کے شہر لاہور میں ایسے شہریوں نے پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا ہے جن کا روزگار جاپان میں ہے اور وہ کورونا کی وبا پھیلنے کے بعد بین الاقوامی فلائٹس کا آپریشن متاثر ہونے کے بعد واپس نہیں جا سکے۔
شہریوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر وزیراعظم عمران خان، چیف جسٹس اور سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کے انچارج ذلفی بخاری سے مدد کرنے اور مسئلہ حل کرنے کی اپیل درج تھی۔
مظاہرین نے کہا کہ سینکڑوں پاکستانی جاپان میں ہیں جو واپس آنا چاہتے ہیں اور اسی طرح سینکڑوں پاکستانی واپس جاپان جانے کے لیے خصوصی فلائٹس چلائے جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جاپان کی حکومت نے دنیا کے 100 کے لگ بھگ ملکوں سے فلائٹس کے آپریشن پر پاپندی عائد کی ہے مگر پاکستان اس فہرست میں شامل نہیں اس لیے حکومت کو فوری طور پر پی آئی اے کی ٹوکیو کے لیے خصوصی پروازیں چلانی چاہئیں۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت نے 21 مئی کو خصوصی پرواز چلانے کا اعلان کیا تھا مگر اس کے لیے جاپان کی حکومت کو بروقت آگاہ نہ کرنے کی وجہ سے فلائٹ منسوخ کرنا پڑی۔
ان کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی ملک کے لیے اربوں ڈالرز کا زرمبادلہ بھیجتے ہیں اس لیے حکومت ان کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے مسئلہ فوری حل کرے۔

