کالم

دل تو ہمارے بھی ٹوٹے تھے

جون 28, 2020

دل تو ہمارے بھی ٹوٹے تھے

جب خان صاحب کو ملک کی آخری امید قرار دیا جا رہا تھا ہم تو تب ہی کہہ رہے تھے کہ اتنی امیدیں وابستہ نہ کرو ۔ خوابوں سے باہر نکلو ۔

غیر حقیقی اور جذباتی نعروں کو وزن مت دو ۔۔ آپ سے کیا چھپائیں ۔۔ ہم تو خود ایسے ہی خوابوں کا کشتہ تھے۔ جانتے تھے کہ ان کا انجام سوائے مایوسی کے کچھ نہیں ہو گا۔ آج سوشل میڈیا ان ٹوٹی ہوئی امیدوں کا قبرستان بنا ہوا ہے۔

ہم کہتے تھے کہ تبدیلی چاہنے والوں کی یہ نسل جب مایوس ہو گی تو تو کم از کم اگلے تیس سالوں تک کوئی تبدیلی کا نام نہیں لے پائے گا۔ تبدیلی کا نام گالی بن کر رہ جائے گا۔ کیا آپ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے کہ تبدیلی کا نعرہ ایک گالی بن چکا ہے۔

ہمیں خانصاحب سے محبت تھی۔ ان سے نفرت تو ہرگز نہ تھی۔ لیکن انہیں بت اور دیوتا بنانے سے مجتنب تھے۔ ہم ایسے دیوتاؤں کا انجام ماضی میں دیکھ چکے تھے۔ جانتے تھے کہ موم کا یہ دیوتا بھی حقائق کی دھوپ برداشت نہ کر پائے گا۔ ماضی کے دیوتے تو پھر دس دس سال گزار گئے یہ تو محض دو سالوں میں ہی پگھل گیا۔

ہم نے روٹی کپڑا مکان کے نعرے لگانے والا دیوتا بھی دیکھا تھا۔جس نے روٹی کپڑا مکان تو کیا دینا تھا الٹا غریب سے اس کی روٹی تک چھین لی تھی ۔۔ ہر چیز لمبی قطاروں میں راشن ڈپوؤں سے دستیاب ہوتی تھی ۔۔ دیوتا نے ملک میں نفرت اور انتقام کی ایسی سیاست کو فروغ دیا جو بالآخر اسی کی جان لے کر ٹلی۔

ہم نے ستتر میں نفاذ مصطفیٰ کے مبارک نام پر تحریک چلانے والوں کو دیکھا ۔۔مخلص کارکنوں نے اسلام کی خاطر جانیں قربان کر دیں لیکن قائدین آمریت کی گود میں جا بیٹھے ۔۔ نفاذ اسلام کا نعرہ کہیں پیچھے رہ گیا ۔۔ لوگ اس نعرے کے نام لیواؤں سے اتنے متنفر ہوئے کہ وہ الیکشن میں ان کی ترجیح ہی نہیں رہے۔

ہم نے حب الوطنی اور اسلام کے نام پر کبھی ایک حکومت کے خلاف دھرنے دئیے کبھی دوسری کے خلاف ۔۔۔ دھرنے اور مارچ دیتے ہوئے یہی خواب آنکھوں میں سجائے کہ ہمارا خون بھی تزئین گلستان میں شامل ہو جائے گا۔ جانیں قربان کیں ۔۔ مال خرچ کیا ۔۔ لیکن بعد میں اندازہ ہوا کہ ہم تو سیاست کے شاطروں کی بساط کے وہ مہرے تھے جنہیں وہ طالع آزمائی کے لئے کبھی ایک کے خلاف استعمال کرتے تھے اور کبھی دوسرے کے خلاف۔ ہمارے لیڈر ان شاطروں کو افرادی قوت مہیا کرنے والے معمولی ٹھیکیدار تھے۔ جو اپنے اصل نصب العین سے بھٹک چکے تھے ۔۔۔احتساب، کرپشن، غداری، لوٹ مار ۔۔ یہ سب وہ دھنیں تھیں جنہیں سن کر مہرے ایک سرمدی جوش سے ان شاطروں کے اشاروں پر ناچنے لگتے تھے۔

ہم نے بھی اس دشت کی آبلہ پائی کی ہے۔ ہماری آنکھیں بھی ان شکستہ خوابوں کی کرچیوں سے زخمی ہیں۔ جب آشوب آگہی لاحق ہوا تو ہم نے مہرے بننے سے توبہ کر لی اور آج تک اس پر قائم ہیں۔ ہم ان شاطروں کے مہرے نہیں رہے۔ ان کے ہانکا کرنے والے نہیں رہے ۔۔ !!

خانصاحب کے مخلص چاہنے والے اسی پائمال راستے کے مسافر تھے جس پر کبھی ہم چلے تھے ۔۔۔ جانتے تھے کہ اس راستے پر مایوسی ہے ۔۔ دکھ ہے ۔۔ جب آگہی ہوتی ہے تو زندگی بیکار لگتی ہے۔

ارے بھائیو ۔۔ہم ذرا پہلے رو پیٹ چکے تھے۔ اس مثالیت پسندی سے جان چھڑوا چکے تھے۔ آپ اب تکلیف سے گزر رہے ہو۔ دل تو ہمارے بھی ٹوٹے تھے۔ تمہارے بھی ٹوٹے ہیں۔ جن کی عقیدت ذرا گہری ہے ان کے دل کچھ عرصے بعد ٹوٹ جائیں گے۔

ہم نے طے کر لیا ہے کہ آدرش، مثالیت پسندی، رومانویت، لیڈرورشپ، آئیڈیلزم۔۔ کار سیاست میں بیکار چیزیں ہیں۔ یہاں تو سہج پکے سو میٹھا پائے ۔۔ عوام کے ووٹوں سے کالا چور آ جائے اس کو قبول کر لو ۔۔ نظام کو چلنے دو۔۔ نظام چلے گا تو اگلے الیکشن میں وہ نکل جائے گا ۔۔ لیکن عوام کے شعور کا ایک درجہ بڑھا جائے گا ۔۔ آہستہ آہستہ خوب سے خوب تر لوگ بھی آتے جائیں گے ۔۔ لیکن ہر طرح کی بے اصولی، بے ایمانی، دھاندلی روا رکھ کر ، شاطروں کے مہرے بن کر حکومتیں بدلنے سے کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ آ بھی گئی تو دیرپا نہیں ہو گی۔ جس راستے سے حکومت بنے گی، اسی راستے سے ختم ہو جائے گی ۔۔ دیرپا تبدیلی مسلسل جمہوری رویوں سے آئے گی۔ اور یہ کہ آخری امید صرف اللہ کی ذات ہے۔ اس ذات کے علاوہ "امیدیں” سمجھے جانے والوں سے قبرستان بھرے ہوئے ہیں۔

بس یہی ہے ہمارا سبق جو ہم نے ٹھوکریں کھا کر کچھ سال پہلے سیکھ لیا تھا۔۔ ٹوٹے ہوئے دل اب سیکھ رہے ہیں ۔ کچھ آنے والے دنوں میں سیکھ جائیں گے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے