میڈیا کی آزادی کے لیے مظاہرے کیوں؟
ہاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے میڈیا پر قدغنوں کی مذمت کرتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو اظہار رائے کی آزادی کا دشمن قرار دیا ہے۔
قبل ازیں اسلام آباد میں نجی نیوز چینل 34 کی بندش کے خلاف الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے دفتر کے باہر صحافیوں نے مظاہرہ کیا جس کے دوران بعض افراد کے اتھارٹی کے دفتر میں گھسنے کی کوشش کو روکنے کے لیے ایک سکیورٹی گارڈ نے ہوائی فائرنگ بھی کی۔
مظاہرے میں موجود افراد نے الزام لگایا ہے کہ صحافیوں پر تشدد اور ہوائی فائرنگ لیڈی اسسٹنٹ کمشنر کی موجودگی میں کی گئی۔
صحافیوں نے حکومت کی جانب سے چینل ٹوئٹی فور نیوز کی بندش کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ سینئر صحافیوں نے کہاکہ اپنے حق کیلئے پرامن احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ اور تشدد انتہائی غیرمناسب ہے۔
مظاہرین نے حکومت اور چیئرمین پیمرا کے خلاف شدید نعرے بازی کی، سینئر صحافیوں نے چینل ٹوئٹی فور کی بندش ختم اور لائسنس فوری بحالی کامطالبہ کیا۔
سوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین نے جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کی گرفتاری اور 24 نیوز کی بندش کے خلاف آواز بلند کی ہے۔

