پاکستان24 عالمی خبریں

سوشل میڈیا کنٹرول کے لیے نیا ‘ترک قانون’

جولائی 29, 2020

سوشل میڈیا کنٹرول کے لیے نیا ‘ترک قانون’

ترکی میں پارلیمنٹ نے ایک ایسے قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت حکومت کو سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے لیے غیرمعمولی اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔

ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق بدھ کو منظور کیے گئے نئے قانون کے تحت فیس بک اور ٹوئٹر جیسی بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں کو مقامی نمائندوں کی موجودگی یقینی بنانا ہوگی اور ترکی عدالتوں کے حکم پر اپنے پلیٹ فارم سے کچھ مواد کو ہٹانا ہوگا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں بھاری جرمانے کا سامنا کرنا ہوگا۔

ناقدین نے اس قانون سازی کے اظہار رائے کی آزادی پر اثرات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ترکی میں سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر روزانہ دس لاکھ سے زائد نئے صارفین آتے ہیں جو اس قانون سے متاثر ہوں گے۔

قانون کا یہ مسودہ حکمران جماعت اے کے پی اور اس کی قوم پرست اتحادی ایم ایچ پی نے پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا۔ سوشل میڈیا کے کے لیے لائے گئے اس بل پر پارلیمنٹ میں منگل کو بحث شروع ہوئی تھی جو بدھ کو بھی جاری رہی۔

ترک صدر رجب طیب اردوغان نے سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے عزم کا اظہار اس وقت کیا تھا جب رواں ماہ کے آغاز پر وزیر خزانہ بیرت البیراک اور ان کی اہلیہ کے بارے میں ان کے چوتھے بچے کی پیدائش پر نامناسب تبصرے کیے گئے۔

واضح رہے کہ وزیر خزانہ کی اہلیہ ترک صدر کی بیٹی ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے