نیول چیف کلب بنانے پر جواب دیں: ہائیکورٹ
Reading Time: < 1 minuteاسلام آباد ہائیکورٹ نے راول ڈیم کے کنارے نیول کلب کی تعمیر کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کے حکام اور نیوی کی جانب سے تحریری جواب جمع نہ کرانے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے 7 اگست کو نیول چیف کو کلب کی تعمیر سے متعلق تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں راول جھیل کنارے نیول کلب کی تعمیر کے خلاف دائر درخواست پر سماعت میں عدالت کے پوچھنے پر بتایا گیا کہ نیوی کی جانب سے تحریری جواب جمع نہیں کیا گیا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ‘آپ کو جواب دینے کا کہا تھا کہ بتائیں کس قانون کے تحت آپ نے کلب بنایا اور چلا سکتے ہیں؟ اس عدالت نے کہا تھا کہ کابینہ کو بتائیں اسلام آباد میں قوانین پر عمل نہیں ہو رہا۔’
جسسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ کسی کو آگے سفارشات بھیجنے کے لئے نہیں کہا تھا، ایک عمارت بنی ہی غیر قانونی ہے اس پر سی ڈی اے اب کیا کر لے گا؟ جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ معاملے پر اٹارنی جنرل کی رائے بھی مانگی گئی ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کسی غریب کا کھوکھا گرانے کے لیے بھی کیا آپ اٹارنی جنرل کی رائے مانگیں گے؟
عدالت نے 7 اگست کو نیول چیف کو کلب کی تعمیر سے متعلق تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔