ٹوئٹر پر اینکرز اور صحافیوں کی لڑائی کیوں؟
پاکستان کے تحقیقاتی صحافی اعزاز سید کی جانب سے معروف ٹی وی اینکر رؤف کلاسرا سے جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کے اثاثوں کے بارے میں یوٹیوب پروگرام / وی لاگ کیے جانے کے سوال نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر جنگی نوعیت کا ماحول بنا دیا ہے۔
اینکر سلیم صافی نے ایک ٹویٹ میں دونوں سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ”ہم میں کوئی فرشتہ نہیں۔ ہرکوئی اپنےاپنےانداز میں اپنی بقاکی جنگ لڑ رہا ہے۔ ہر ایک کا طرز صحافت مختلف ہے۔ ہمیں صحافت کی آزادی نہیں بلکہ اس کی بقاکی جنگ درپیش ہے۔ آپس میں لڑیں گےتووہ جنگ کیسے لڑیں گے۔ میں روف کلاسرا اور اعزاز سید سےمعافی مانگتےہوئےالتجا کرتا ہوں کہ اس جنگ کو بند کر دیں۔“
اعزاز سید نے کیا سوال پوچھا تھا؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے رؤف کلاسرا نے اعزاز سید کے حوالے سے ذاتی نوعیت کی بات بھی لکھی جس پر ان کو ٹوئٹر صارفین نے آڑے ہاتھوں لیا۔
رؤف کلاسرا کا جواب کیا آیا؟
رؤف کلاسرا نے اس ایک سوال کے جواب میں پندرہ ٹویٹس کیں جن میں جنگ گروپ سے وابستہ صحافیوں کو رینٹ اے جرنلسٹ قرار دیا۔
واضح رہے کہ رؤف کلاسرا خود بھی جنگ گروپ سے وابستہ رہے ہیں۔
سینیئر صحافی اور اینکر مبشر زیدی نے لکھا کہ اعزاز سید کی ڈان نیوز میں ہائرنگ انہوں نے کی تھی اور اس وقت وہ ادارے کے ایڈیٹر تھے۔

