بیٹیوں کا ریپ، ملزم کو صلح پر بھی ضمانت نہ ملی
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بیٹیوں کے ساتھ زیادتی کے ملزم والد کو گھر میں مدعیہ سے صلح کرنے کے باوجود ضمانت پر رہا کرنے کی درخواست مسترد کی۔
صحافی ثاقب بشیر کے مطابق ملک میں موٹر وے ریپ کیس کے تناظر میں عدالتوں کے حوالے سے یکطرفہ تصویر دکھائی جا رہی ہے۔
ٹوئٹر پر اپنے کورٹ رپورٹنگ کے تجربے کو شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ گزشتہ دنوں ریپ کے ایک ملزم کی ضمانت کا مقدمہ سماعت کے لیے مقرر ہوا۔
اس کیس میں والد نے اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ زیادتی کی تھی اور اہلیہ نے کیس کردیا۔ بیٹیوں نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا اور میڈیکل میں بھی زیادتی ثابت ہو گئی۔ والد کی ضمانت مسترد ہو گئی پھر اس والد نے بیٹیوں اور اہلیہ پر دباؤ ڈال کر صلح کرلی۔
تصویر کا ایک اور رخ
اسلام آباد میں ایک درندہ صفت والد نے اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ زیادتی کی ، ماں نے کیس کردیا بیٹیوں نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا میڈیکل میں بھی زیادتی ثابت ہو گئی والد کی ضمانت مسترد ہو گئی پھر اس والد نے بیٹیوں اور ماں کے ساتھ پریشر ڈال کر صلح کرلی1/4
— Saqib Bashir (@saqibbashir156) September 16, 2020
ثاقب بشیر کے مطابق صلح کی بنیاد پر ملزم والد کے وکیل نے دوبارہ درخواست ضمانت دائر کی صلح نامہ ساتھ لگایا لیکن ماتحت عدلیہ کے جج نے صلح نامے کے باوجود اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے یہ لکھ کر ضمانت مسترد کر دی کہ معاشرے کا گھناونا ترین جرم ہے، میڈیکل میں بھی ثابت ہو گیا اس لیے ایسا ملزم ضمانت کا مستحق نہیں۔
درخواست ضمانت لے کر ملزم والد وکیل کے ذریعے ہائی کورٹ پہنچا تو عدالت نے پوچھا کیا ایسا شخص صلح کر کے ریلیف لینے کا مستحق ہے؟
سرکاری وکیل نے بھی ضمانت کی مخالفت کی ، عدالت عالیہ نے بھی اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے ضمانت مسترد کی اور ٹرائل جلد مکمل کرنے کا حکم بھی دیا۔

