نواز شریف کے کسی نمائندے کی آرمی چیف سے ملاقات نہیں ہوئی: مریم نواز
پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ نواز شریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی۔
بدھ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ایک اشتہاری ملزم کی درخواست پر منتخب وزیراعظم کو نااہل کیا گیا، یہ سوال ہم نے پہلے نہیں اٹھایا جو اٹھانا چاہیے تھا، اشتہاری جس تھانے کی حدود کا ملزم تھا اسی تھانے کی حدود میں عدالت پیش ہوتا تھا۔
مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کی صحت آپریشن کی متقاضی ہے لیکن جب تک کورونا ہے نواز شریف کا آپریشن نہیں ہوسکتا، نواز شریف کا امیون سسٹم کمزور ہے، ادویات سے علاج جاری ہے۔
مریم نواز سے پوچھا گیا کہ پارلیمانی رہنماوں کی آرمی چیف سے ملاقات پر کیا کہیں گی ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ کیا جو کہوں گی آپ کا چینل چلائے گا ؟
مریم نواز نے کہا کہ ان کی اطلاع کے مطابق پارلیمانی رہنماوں کی ملاقات اسلام آباد نہیں پنڈی میں ہوئی۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے مہلت مانگی جس پر عدالت نے نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل سے متعلق معاملے کی سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کردی۔
پانامہ ریفرنسز میں مرکزی اپیلوں پر سماعت 9 دسمبر کو ہوگی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پہلے نواز شریف کی حاضری کو یقینی بنانا ہے، پھر ایک ساتھ اپیلوں پر سماعت کریں گے۔
بدھ کو سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی پانامہ ریفرنسز میں سزا کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔
مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔ نیب کی جانب سے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانہ، ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل سردار مظفر جبکہ وفاق کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ احتساب عدالت کے اسی فیصلے کیخلاف نواز شریف کی اپیل بھی زیر سماعت ہے۔ نواز شریف کی حاضری کیلئے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں، پہلے اس معاملے کو دیکھ لیں پھر ایک ساتھ اپیلوں پر سماعت کر یں گے۔
عدالت نے مرکزی اپیلوں پر سماعت 9 دسمبر تک ملتوی کردی۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کے حوالے سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ ڈاک کے ذریعے بھجوائے گئے وارنٹس وصول ہو چکے ہیں۔
جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کاؤنٹی کورٹ سے وارنٹ کی تعمیل کا کیا بنا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کاؤنٹی کورٹ کے ذریعے تعمیل کی رپورٹ جمع کرانے کیلئے مہلت دی جائے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ان کی طرف سے تصدیق کا کوئی خط موصول ہوا ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نفی میں جواب دیا اور کہا کہ ابھی ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کتنا وقت لگ سکتا ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل بولے کم از کم پندرہ دن کا وقت لگے گا۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر ایک مقررہ وقت پتہ چل جاتا کہ دس دن لگیں گے یا پندرہ دن، تو ہم اس حساب سے تاریخ مقرر کر دیتے ہیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ آپ کیس غیر معینہ مدت تک ملتوی کریں، جیسے ہی جواب آتا ہے عدالت کو آگاہ کر دونگا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اس طرح طویل عرصہ کیلئے سماعت ملتوی نہیں کر سکتے۔ ہم ایک ہفتے کیلئے سماعت ملتوی کر دیتے ہیں۔
عدالت نے کیس کی سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کردی۔
قبل ازیں مریم نواز عدالتی پیشی کے لیے بدھ کی صبح مری سے روانہ ہوئیں۔ راستے میں بہارہ کہو اٹھال چوک میں ن لیگی کارکنوں نے ان کا استقبال کیا۔
ٹریفک کا نظام بحال رکھنے کے لیے ٹریفک پولیس کے اہلکار اور سیکیورٹی کے لیے اسلام آباد پولیس کے اہلکار بڑی تعداد میں تعینات کیے گئے۔

