گستاخانہ مواد اور توہین مذہب، تین کو سزائے موت، پروفیسر کو 10 سال قید
پاکستان میں اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے گستاخانہ مواد کی تشہیر کے کیس میں تین افراد کو سزائے موت سنائی ہے جبکہ توہین مذہب پر ایک ملزم کو 10 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم سنایا گیا ہے۔
جمعے کو انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس حسن نے محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے 295-Aاور 295-C کے علاوہ دہشتگردی کی سیکشن 7-G کے تحت جرم ثابت ہونے پر مجرمان کو سزا کا حکم سنایا جس میں وفاقی شرعی عدالت کے محمد اسماعیل قریشی کیس کا بھی حوالہ دیا گیا۔
عدالت نے توہین رسالت کے الزام پر ناصر احمد، عبدالوحید اوررانا نعمان مو سزائے موت جبکہ توہین مذہب پر پروفیسر انوار احمد کو10سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنایا۔
فیصلے کے موقع پر سخت سکیورٹی اقدامات کیے گئے تھے اور چاروں گرفتار ملزمان کو اڈیالہ جیل سے عدالت لایا گیا۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے احکامات پر 19 مارچ 2017ء کو حافظ احتشام کی مدعیت میں ایف آئی اے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
عدالت نے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر 15 دسمبر 2020ء کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
عدالت نے کیس کے مفرور ملزمان طیب سردار، راؤ قیصر شہزاد، فراز پرویز اور پرویز اقبال کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کررکھے ہیں۔

