وکیل رضا ربانی اور جسٹس اعجاز الاحسن میں مکالمہ
سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کے مقدمے میں جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ہے کہ آئین بناتے وقت وزیر قانون نے کہا صوبائی نشستوں کی سینیٹ میں متناسب نمائندگی ہونی چاہیے. رضا ربانی نے کہا پنجاب میں تحریک انصاف اور ق لیگ اتحادی ہیں، تحریک انصاف اپنا ایک سینیٹر ق لیگ کو دے دی ہے،، کیا تحریک انصاف کے ایک سینیٹر کم ہونے سے متناسب نمائندگی کی عکاسی ہوگی؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا آپ کی دلیل دلچسپ ہے۔
سپریم کورٹ میں سینیٹ انتحابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجربنچ نے سماعت کی.پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل میاں رضا ربانی نے دلائل دیتے ہوۓ موقف اپنایا ہے کہ سینیٹ کو تخلیق کرنے کا بنیادی مقصد فیڈرل ازم ہے،قائداعظم محمد علی جناح کے چودہ نکات میں سے چودہ نکتہ فیڈرل ازم کا تھا،سینیٹ کو قائم کرنے کا مقصد گھٹن کے ماحول کو ختم کرکے متناسب نمائندگی دینا ہے،ایسی چھوٹی سیاسی جماعتیں جن کی چار صوبائی نشستیں ہوتی ہیں انھیں بھی سینیٹ میں نمائندگی ملتی ہے،چھوٹی سیاسی جماعتوں کو فیڈرل میں اپنی بات کرنے کا موقع دینے کیلئے سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کا تصور دیا گیا،بلوچستان اسمبلی میں تین یا چار اراکین کے باوجود دو سینیٹرز موجود ہیں،ہمیں سینیٹ کی تشکیل اور مقصدیت کو سامنے رکھنا ہوگا،پاکستان کی عوام کی اکثریت قومی اسمبلی میں ہوتی ہے،سینیٹ میں وفاق پاکستان کی نمائندگی ہوتی ہے،ہاؤس آف لارڈ اور ہاؤس آف کامن میں بھی تنازع دیکھا جا سکتا ہے،ہاؤس آف کامن کے پاس عوامی نمائندگی ہوتی ہے،ہمیں مسئلے کا حل آئین میں دیکھنا چاہیے،بل قومی اسمبلی سے پاس ہونے کے بعد سینیٹ مسترد بھی کر سکتا ہے،سینیٹ کو بل پر نوے دنوں میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے،سینیٹ میں نمائندگی صوبائی اسمبلی کی سیٹوں کے تناسب سے ہوتی ہے،یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ضروری نہیں کہ حکمران جماعت کی صوبے میں بھی حکومت ہو،وفاق میں کسی اپوزیشن جماعت کی صوبے میں حکومت ہو سکتی ہے،ہمیں آئین سازوں کے دماغ کو سمجھنا ہوگا،سیاسی جماعتوں کی متناسب نمائندگی قانون سازوں کے ذہن میں تھی،متناسب نمائندگی کے نظام کے نیچے بھی تین مختلف نظام موجود ہیں،ہر آرٹیکل میں الگ نظام سے متعلق بتایا گیا ہے،جہاں پارٹی نمائندگی کا کہا گیا ہے وہیں سنگل قابلِ انتقال ووٹ کا بھی کہا گیا ہے،سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کو بھی مین سٹریم نمائندگی کا حق ہے،ریفرنس میں صدر مملکت نے سوال پوچھا ہے کہ خفیہ ووٹنگ کا اطلاق سینٹ پر ہوتا ہے یا نہیں،جس پر حکومت نے ایسا تاثر دیا ہے کہ جیسے مقدمہ 184/3 کے دائرہ اختیار کا ہے۔
دوران سماعت وکیل الیکشن کمیشن کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے ووٹرز کے لیے تیار کردہ ضابطہ اخلاق کی کاپی جمع کروا چکے ہیں۔پیپلز پارٹی کے رہنماء میاں رضا ربانی نے دوران سماعت بتایا کہ وه پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ذاتی حیثیت میں بھی پیش ہورہے ہیں، پہلے جسٹس اعجاز الحسن کے اٹھاے گئے سوالات کے جواب دیں گے جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے انہیں ٹوکتے ہوۓ اپنے نام کے حروف پکار کر انہیں بتایا کہ میرا نام اعجاز الاحسن ہے اعجاز الحسن نہیں۔
میاں رضا ربانی نے دلائل میں کہا عام تاثر ہے رکن پارلیمنٹ اچھا وکیل نہیں ہوتا جس پر چیف جسٹس نے انہیں مخاطب کرتے ہوۓ کہا کہ ایسی بات نہیں ہے، آپ اچھے وکیل ہیں،آپ تو 1994 سے سینٹ کے ممبر بھی ہیں۔
چیف جسٹس نےاس موقع پر کہا کہ اگر کسی جماعت کے صوبائی اسمبلی میں دو ممبر ہوں وہ حلیف جماعتوں سے اتحاد قائم کر سکتی ہے،ہمیں متناسب نمائندگی سے متعلق بتائیں،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا ہر سیاسی جماعت کی عددی تعداد کے مطابق سینیٹ میں نمائندگی ہونی چاہیے،سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ ضروری نہیں کہ حکمران جماعت کے خلاف جائے،اتحادی جماعتوں کی اپنی طاقت ہو سکتی ہے،نظام جو بھی اپنایا جائے سینیٹ میں صوبائی اسمبلیوں میں موجود جماعتوں کی نمائندگی ہونی چاہیے،1973 کے آئین پاکستان بنتے وقت وزیر قانون نے کہا صوبائی نشستوں کی سینیٹ میں نمائندگی ہونی چاہیے،متناسب نمائندگی کا لفظ آرٹیکل 59 اور 51 میں موجود ہے،ووٹ سیکرٹ رکھنے کے پیچھے کیا منطق تھی؟
رضا ربانی نے موقف اپنایا کہ اگر تناسب نمائندگی کے اصول پر سختی سے عمل کرنا ہے تو پھر پارٹی لسٹ ہونی چاہیے تھی،پنجاب میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ کیو اتحادی ہیں،تحریک انصاف چار یا پانچ سینیٹر میں سے ایک سینیٹر ق لیگ کو دے رہی ہے،کیا تحریک انصاف کے ایک سینیٹر کم ہونے سے متناسب نمائندگی کی عکاسی ہوگی، سیاسی اتحاد خفیہ نہیں ہوتا لیکن اگر انفرادی ووٹر چاہے تو اپنا ووٹ خفیہ رکھ سکتا ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک موقع پر میں رضا ربانی کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا کہ آپ اپنی دلیل کو دوسرے انداز سے بھی بیان کر سکتے ہیں،اکثریتی جماعت دوسرے اتحادی جماعت کے صوبے سے سیٹ کا تبادلہ بھی کیا جاسکتا ہے،تحریک انصاف اور ق لیگ کا پنجاب میں ابھرتا ہوا اتحاد ہے، میں اس پر مزید بات نہیں کرسکتا،سوال یہ ہے کہ پھر اتحاد کی صورت میں سینیٹ کا ووٹ کیوں خفیہ ہوتا ہے۔رضا ربانی نے کہا سیاسی اتحاد خفیہ نہیں ہوتا لیکن اگر انفرادی ووٹر چاہیے تو اپنا ووٹ خفیہ رکھ سکتا ہے. کیس کی سماعت پیر 22 فروری تک کے لئے ملتوی کر دی گئی ہے۔

