پاکستان24 متفرق خبریں

فیصل واوڈاکی نااہلی کا فیصلہ الیکشن کمیشن کرے: ہائیکورٹ

مارچ 3, 2021

فیصل واوڈاکی نااہلی کا فیصلہ الیکشن کمیشن کرے: ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ فیصل واؤڈا کے مستعفی ہونے کے باعث انہیں نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا، سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے کے نتائج ہیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فیصل واؤڈا کا الیکشن کمیشن میں جمع کرایا گیا بیان حلفی بظاہر جھوٹا ہے، فیصل واؤڈا کے جھوٹے بیان حلفی کا معاملے پر الیکشن کمیشن فیصلہ کرے۔

قبل ازیں بدھ کی صبح فیصل واؤڈ نااہلی کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کو ان کے وکیل نے بتایا تھا کہ واؤڈا نے بطور رکن قومی اسمبلی استعفی دے دیا ہے اس لیے یہ پٹیشن غیر موثر ہو گئی ہے۔

وکیل نے فیصل واؤڈا کا قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا استعفی عدالت میں پیش کیا جس پر درخواست گزار کے وکیل جہانگیر جدون نے کہا کہ فیصل واؤڈا نے سینیٹ الیکشن میں ووٹ کاسٹ کیا ہے، پتہ نہیں اس سے پہلے استعفی دیا یا بعد میں؟

بیرسٹر جہانگیر جدون نے عدالت کو بتایا کہ پہلے بھی بہت سے ارکان اسمبلی استعفی دے چکے اور دوبارہ پارلے منٹ آ جاتے ہیں، جب تک اسپیکر استعفی منظور نہ کر لے، تب تک متعلقہ شخص رکن قومی اسمبلی ہی ہوتا ہے۔

بیرسٹر جہانگیر جدون کے مطابق فیصل واؤڈا نے دہری شہریت نہ رکھنے کا جھوٹا بیان حلفی جمع کرایا اور صادق و امین نہیں رہے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایسا شخص پارلے منٹ کا ممبر نہیں ہو سکتا۔

بیرسٹر جہانگیر جدون کا کہنا تھا کہ سوال یہ نہیں کہ وہ اب رکن قومی اسمبلی نہیں رہے بلکہ فیصل واؤڈا کے جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے کے نتائج ہیں، الیکشن کمیشن کے ریکارڈ سے واضح ہے کہ فیصل واؤڈا کاغذات نامزدگی کی منظوری تک امریکی شہری تھے، اٹھارہ جون کو سکروٹنی مکمل ہوئی، 25 جون کو شہریت ترک کی۔

عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے