کالم

جنسی تشدد، وکٹم بلیمنگ اور فنڈڈ ریسرچ

اپریل 9, 2021 2 min

جنسی تشدد، وکٹم بلیمنگ اور فنڈڈ ریسرچ

Reading Time: 2 minutes

جنسی تشدد کے موضوع پر دو دوستوں ڈاکٹر عزیر سرویا اور ضیغم قدیر کے درمیان خاصا صحت مندانہ مباحثہ پڑھنے کو ملا ہے۔ دونوں ہی سے جزوی اتفاق ہے، اس لیے اپنی رائے چند  پیراگراف کی صورت میں بیان کرنا ضروری سمجھا۔

ایک تو اس ضمن میں ہونے والی تحقیقات پر کچھ عرض کرنا تھا۔ بدقسمتی ہے، مگر سرمایہ دارانہ نظام میں ریسرچ پر فنڈنگ کے ذرائع بہت زیادہ اثرانداز ہوتے ہیں۔ یعنی ایک ہی موضوع پر دو تحقیقات میں سے ایک کو کسی مذہبی ادارے نے اور دوسری کو کسی لبرل ادارے نے فنڈ مہیا کیے ہوں تو دونوں کے نتائج بالعموم اپنے اپنے ڈونر کی منشا کے قریب ترین ہوتے ہیں۔

اس فیکٹر کو آپ نظر انداز بھی کر دیں تو یہ حقیقت بہرحال پھر بھی پیش نظر رکھی جانی چاہیے کہ تحقیق کہاں ہو رہی ہے؟

ہر سماج کی اپنی ساخت، اقدار، روایات اور مخصوص معاملات میں مخصوص سوچ اور رویے ہوتے ہیں۔ تحقیق کے موضوع کی یکسانیت اس کے نتائج کو آفاقی نہیں بنا دیتی۔ ایک ہی معاملے پر امریکا، چین، بھارت اور پاکستان میں تحقیق کی جائے تو نتائج کی نوعیت اور/تناسب میں فرق ہوگا۔ محقیقین عموماً اس سماجی تفاوت کا خیال رکھتے ہیں۔ تاہم جب تحقیق کے نتائج عوام کے ہاتھ لگتے ہیں تو عموماً یہ پہلو نظر انداز ہو جاتا ہے۔

تیسری بات یہ عرض کرنا تھی کہ سوشل میڈیا پر معلومات آپ کو بائٹس کی شکل میں ملتی ہے۔ ایک طویل پروگرام یا تقریر کے چند منٹوں پر مشتمل کلپس تیار کیے اور پھیلائے جاتے ہیں۔ کلپس کی تیاری اور پھیلاؤ پر انفلوئنسرز کی اپنی پسند ناپسند اور گروہی مفادات بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس لیے کوشش کیا کریں کہ کسی متنازع کلپ پر رائے دینے سے قبل پوری بات سن یا پڑھ لیں۔ پوری بات سننے یا پڑھنے کا چلن بھی بوجوہ نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے کچھ باتیں بلاوجہ ہی متنازع بن جاتی ہیں۔

خان صاحب نے جو کچھ جنسی تشدد کے ضمن میں فرمایا، میری دانست میں اسے وکٹم بلیمنگ قرار دینا سراسر بہتان ہے۔ ایک تو انہیں خوش فہمی لاحق ہے وہ ہرگز ایک سمجھدار مقرر نہیں۔ نیز یہاں سلسلہ سوال جواب کا تھا، ناممکن سی بات ہے کہ چند منٹ میں کوئی بہترین خطیب بھی اتنے بڑے ایشو پر اپنی مکمل رائے کا ابلاغ کر سکتا۔ مزید یہ کہ متنازع کلپ اس چند منٹ کا بھی مختصر سا حصہ لے کر تیار کیا گیا۔ اس میں بھی کہیں ہلکا سا شائبہ بھی نہیں ملتا کہ خان صاحب نے لب اس کو جنسی تشدد کی وجہ قرار دیا ہو۔

جو انہوں نے فرمایا وہ فحاشی اور اس کے معاشرے پر مضر اثرات کے حوالے سے تھا۔ جن میں سے ایک اثر ان کے خیال میں بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔ یہ مکمل سچ نہیں ہے تاہم اسے جھوٹ، غلط فہمی یا ریپ اپالوجی کہنا بھی زیادتی ہے۔

اس موضوع پر کہنے کو بہت کچھ ہے، مگر کہنا نہیں چاہتا۔ میں کمفرٹیبل محسوس نہیں کرتا جنسی تشدد کو زیربحث لاتے ہوئے۔ صرف یہ عرض کروں گا کہ یہ قدیم ترین اور نفسیاتی لحاظ سے پیچیدہ ترین جرائم میں سے ایک جرم ہے۔ اس کا کوئی بھی آسان جواب نہیں۔

طاقت یا غلبے کی خواہش ہو یا فحاشی و عریانی، دونوں مکمل سچ نہیں اور مل کر بھی مکمل سچ نہیں بنتے۔

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے