ہندو بچے سے بدسلوکی اور مذہب کی توہین کرنے والا شخص گرفتار
صوبہ سندھ کے علاقے تھرپارکر میں ہندو لڑکے سے اللہ اکبر کے نعرے اور مذہبی منافرت پر مبنی کلمات کہلوانے والے شخص کو پولیس نے گرفتار کر کے میڈیا کے سامنے پیش کیا ہے۔
منگل کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک شخص نے سڑک کنارے ایک لڑکے کو گریبان سے پکڑا ہوا ہے اور اس کو اللہ اکبر کہنے کا کہہ رہا ہے۔
ملزم اس کے ساتھ بچے کو گالیاں بھی بک رہا ہے.
ویڈیو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ وہ لڑکا ہندو برداری سے تعلق رکھتا ہے جسے زبردستی ہندو بھگوان کے خلاف نازیبا کلمات ادا کرنے کا کہا جاتا ہے۔ کم عمر لڑکا ویڈیو میں خاصا سہما ہوا نظر آرہا ہے۔
ویڈیو ملزم نے خود ہی اپنے موبائل سے بنائی ہے۔
پولیس کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق ملزم عبدالسلام ابو داود رحیم یار خان کا رہائشی اور تھر کول مائننگ پراجیکٹ میں بطور ڈرائیور کام کرتا ہے۔
اس واقعے کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں تھانہ مٹھی میں منگل کو درج کیا گیا، تاہم واقعہ کچھ دن پہلے پیش آیا ہے۔
مقدمے میں مذہبی منافرت پھیلانے، مذہبی شخصیات کے خلاف تضحیک آمیز زبان استعمال کرنے اور دوسرے مذاہب کے افراد کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ویڈیو میں بدسلوکی کا نشانہ بننے والا لڑکا مٹھی کا رہائشی ہے اور سڑک کنارے پانی کی بوتلیں بیچتا ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم نے لڑکے کو ہراساں کرنے کے بعد مذہبی منافرت پر مبنی جملے ادا کیے اور کہا کہ تم (ہندووں) لوگوں کی وجہ سے تھر کا حال برا ہے.
یہ واقعہ اسلام کوٹ مٹھی روڈ پر مٹھی پولیس سٹیشن کی حدود میں پیش آیا۔
واضح رہے کہ تھرپارکر پاکستان میں ہندو اکثریت علاقہ ہے، جہاں کی 50 فیصد سے زائد آبادی ہندو کمیونٹی کے افراد پر مشتمل ہے۔

