پاکستان

میڈیا کیس: جسٹس قاضی فائز کے ازخود نوٹس پر لارجر بینچ کا فیصلہ محفوظ

اگست 26, 2021

میڈیا کیس: جسٹس قاضی فائز کے ازخود نوٹس پر لارجر بینچ کا فیصلہ محفوظ

سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس کے دائرہ اختیار کے تعین سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے.

مختصر حکمنامہ سہہ پہر میں سنایا جائے گا.

لارجر بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ریگولر کیسز کے اختتام کے بعد حکمنامہ جاری کریں گے.

انہوں نے کہا کہ حکمنامہ جاری کرنے سے آدھا گھنٹہ قبل فریقین کو آگاہ کریں گے.

جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ زیر بحث سوال اتنا مشکل نہیں ہے.
قبل ازیں سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے جواب الجواب دلائل میں کہا کہ آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت درخواست سننے کے چار مراحل ہیں.
اٹارنی جنرل کے مطابق پہلا مرحلہ درخواست دائر ہونا، دوسرا مرحلہ درخواست کا جائزہ لینا ہے، تیسرا مرحلہ آرٹیکل 184 کی شق کا استعمال کرنا اور چوتھا مرحلہ سماعت کرنا ہے.

اٹارنی جنرل نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بنچ سے الگ کرنے سے متعلق جسٹس منصور علی شاہ کے اختلافی نوٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ جب بنچ بن جائے، کاز لسٹ جاری ہو جائے، بنچ سماعت شروع کردے تو چیف جسٹس کا انتظامی اختیار ختم ہو جاتا ہے.

اٹارنی جنرل کے مطابق سپریم کورٹ کا ہر بنچ سپریم کورٹ ہے.

قائمقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ صحافیوں کے ساتھ ہونے والی ذیادتی پر کوئی دو رائے نہیں، صحافیوں کی درخواست برقرار ہے اس پر کارروائی بھی ہوگی، عدالت نے قانون اور ضابطے کے تحت کارروائی کرنی ہوتی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ صحافیوں کیخلاف کچھ ہوا تو سپریم کورٹ دیوار بن کر کھڑی ہوگی، آئین کا تحفظ اور بنیادی حقوق کا نفاذ عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔
جسٹس قاضی امین نے کہا کہ صحافی عدالت سے کبھی مایوس ہوکر نہیں جائیں گے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا آفس کھلا تھا دراخوست وہاں کیوں نہیں دی؟

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے