نسل پرستی پر مبنی جملے بازی، ہیڈنگلے میں میچز پر پابندی
نسل پرستی کے الزامات کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے لیڈز کے ہیڈنگلے گراؤنڈ پر بین الاقوامی میچز کی میزبانی کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔
انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ نے کلب پر نسل پرستی کے کیس سے نمٹنے سے متعلق تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ’مکمل طور ناقابل قبول‘ اور ’حقارت آمیز معاملہ‘ ہے۔
دوسری جانب یارکشائر کے چیئرمین روجر ہٹن نے نسلی پرستی کے ایشو پر استعفیٰ دے دیا ہے۔
روجر ہٹن، جن پر کلب کے چیئرمین کے طور پر مستعفی ہونے کا دباؤ تھا، نے 30 سالہ پاکستانی نژاد کھلاڑی عظیم رفیق سے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔
ادھر انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان اوئن مورگن نے کہا ہے کہ کرکٹ میں نسل پرستی کے خلاف جنگ ’ہمارے کیریئر یا کسی بھی ٹرافی‘ سے بڑی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انگلش کرکٹ اس وقت مشکلات کا شکار ہوئی جب پاکستانی نژاد آف سپنر عظیم رفیق نے یارکشائر پر نسل پرستی سے مناسب طریقے سے نمٹنے میں ناکامی کا الزام لگایا۔
عظیم رفیق نے انکشاف کیا تھا کہ انگلش کاؤنٹی کلب یارکشائر کے لیے کھیلتے ہوئے ان کو نسل پرستی پر مبنی باتیں سننے کو ملی۔

