اربوں روپے کے بلدیاتی فنڈز، الیکشن کمیشن کا اسد قیصر کی آڈیوکا نوٹس
قومی اسمبلی کے سپیکر اور تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کی بلدیاتی الیکشن سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آنے کے بعد الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نوٹس لیا ہے۔
اسد قیصر کو صوابی کے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر سردار مظہر حسین نے نوٹس بھیجا ہے۔
الیکشن کمیشن کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر وضاحت کے لیے آپ ذاتی حیثیت میں ضلعی الیکشن کمشنر صوابی کے دفتر آئیں۔
منظر عام پر آنے والی اس مبینہ آڈیو میں ایک شخص پشتو زبان میں گفتگو کر رہا ہے۔ گفتگو کرنے والے کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر ہیں۔
مبینہ آڈیو میں اسد قیصر کہتے سنے جا سکتے ہیں کہ ’پارٹی کارکنوں کو کہتا ہوں کہ یہ امتحان کا وقت ہے۔ میں، میں کی رٹ نہ لگائیں ۔ پارٹی کے مفاد کو دیکھیں۔تحصیل چیئرمین کی نشست بہت اہم ہے، خدانخواستہ اگر ہم تحصیل کی نشست ہار گئے تو بہت بڑا نقصان ہوگا۔‘
آڈیو کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’آپ کوشش کریں کہ ہر ویلیج کونسل میں اپنا ناظم لے کر آئیں۔ممبرز کو کتنے فنڈز ملیں گے۔ شکر الحمدللہ ابھی جو ہم نے ٹینڈر کئے ہیں، وہ ڈھائی ارب روپے کے ہیں۔ وہ پراسس میں ہیں اور جنوری تک جاری ہو چکے ہوں گے۔‘
آڈیو میں اسد قیصر کہہ رہے ہیں کہ ’اور 70 کروڑ روپے ویسے بھی میرے پاس پڑے ہوئے ہیں۔تو میرا اپنا خیال یہ ہے کہ ہر یونین کونسل کو سپیشل پیکج دوں گا اور وہ بھی یونین کونسل کے تمام ورکرز کی مرضی اور خواہش پر دوں گا۔‘
واضح رہے کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں 19 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں جس کے لیے تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے امیدواروں کے لیے مہم چلا رہی ہیں۔

