پاکستان

شہریوں کو لاپتہ کرنا بدترین کریشن اور آئین شکنی: ہائیکورٹ

دسمبر 13, 2021

شہریوں کو لاپتہ کرنا بدترین کریشن اور آئین شکنی: ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ صحافی و بلاگر مدثر نارو کے مقدمے میں آبزرویشن دی ہے کہ یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی آئین شکنی کے مترادف ہے۔

ہائیکورٹ نے مدثرنارو بازیابی کیس میں اٹارنی جنرل خالد جاوید اور ایمان مزاری ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلا سے اس نکتے پر معاونت طلب کی کہ کیوں نہ لاپتہ افراد کی ذمہ داری ملک کے چیف ایگزیکٹوز پر عائد کر کے ان کے خلاف آرٹیکل چھ کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ دیا جائے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ جبری گمشدگیوں کا کمیشن آئین کے خلاف بنا ہے۔ جبری گمشدگیاں آئین سے انحراف ہے، دہشتگرد کو بھی ماورائے عدالت نہیں قتل نہیں کیا جا سکتا۔

پیر کو ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان سے کہا کہ جن لاپتہ افراد کے ورثا سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں ریاست کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عدالت وزیراعظم کی طرف سے مدثر نارو کے خاندان سے ملاقات کو سراہتی ہے مگر کابینہ کو ہدایت کریں کہ مسئلے پر توجہ دیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ شہریوں کو لاپتہ کیا جانا بری ترین شکل کی کرپشن ہے، ریاست کو اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔

اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ ایسا نہیں کہ لاپتہ افراد کا معاملہ موجودہ حکومت کے دورمیں شروع ہوا،یہ معاملہ موجودہ حکومت کو وراثت میں ملا ہے۔وزیراعظم نے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔ حکومت اس معاملے کو بہت سنجیدہ لے رہی ہے۔ اس معاملے کا ایک بیک گراؤنڈ ہے کہ اسی ملک میں خودکش دھماکے ہوتے تھے، بہت سارے کیسز ہیں جن میں سینکڑوں پاکستانیوں نے جہاد کے نام پر بارڈر کراس کیا اورافغانستان گئے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس اس کو روکا جائے، ریاست کے اندر ریاست قائم نہیں کی جاسکتی۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے جغرافیائی حالات اورقومی سلامتی کا معاملہ بھی دیکھنا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا عدالت کا کام نہیں ہے کہ لوگوں کو ڈھونڈے،نہ ہی ڈھونڈ سکتی ہے۔ وزیرانسانی حقوق کہتی ہیں کہ قانون بنارہے ہیں،قانون کی تو ضرورت ہی نہیں۔ عدالت کہہ سکتی ہے کہ شہری جس دورمیں لاپتہ ہوئے اس وقت کے چیف ایگزیکٹوکےخلاف آرٹیکل 6 کی کاروائی کریں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 6 کے جرم میں جسے سزا ہوئی ہم تو اس سزا پرعملدرآمد نہیں کرپائے۔

چیف جسٹس نے کہا مسئلہ یہ ہے کہ اس معاملے پرکسی کا احتساب نہیں ہورہا،ہرکوئی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دیتا ہے۔ ایک ہال آف شیم بناکر تمام چیف ایگزیکٹوز کی تصاویر وہاں لگا دیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ صرف چیف ایگزیکٹوز کی تصاویر کیوں لگائی جائیں؟ کچھ بیماریوں کا علاج عدالتی فیصلوں سے نہیں،عوام کے پاس ہوتا ہے کہ وہ لاکھوں میں تعداد سڑکوں پرآ جائیں۔

اٹارنی جنرل نے مدثر نارو کیس میں پیش رفت کے لیے دو ہفتے کی مہلت طلب کی تو عدالت نے مقدمہ جنوری کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دیا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے