خفیہ معلومات بیچنے کے الزام میں گرفتار پولیس اہلکار جیل منتقل
خفیہ معلومات بیچنے کے الزام میں گرفتار اسلام آباد پولیس کے اہلکار کو مزید جسمانی ریمانڈ پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے حوالے کرنے کی استدعا عدالت نے مسترد کر دی ہے۔
جمعرات کو سماعت کے اختتام پر عدالت نے پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) ظہور احمد کو جیل بھجوانے کا حکم دیا.
ملزم اہلکار کو ایڈیشنل سیشن جج محمد سہیل کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
ایف آئی اے کاؤنٹر ٹیرارزم ونگ نے دس روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر ملزم کو عدالت میں پیش کیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سے مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔
ملزم کے وکیل عمران فیروز کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے جو برآمد کرنا تھا، موقع سے برآمد کر لیا ہے۔
واضح رہے کہ گرفتار پولیس اہلکار اے ایس آئی ظہور احمد کے خلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ 1923 کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اے ایس آئی ظہور احمد کے خلاف 13 دسمبر کو مقدمہ دائر ہوا تھا جبکہ 14 دسمبر کو ملزم کو پہلی بار ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد فیضان حیدر گیلانی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
ایف آئی اے کے انسداد دہشت گردی وِنگ کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق گولڑہ پولیس کے اے ایس آئی کو خفیہ دستاویزات یا معلومات ’غیر ملکی سفیر/ایجنٹ‘ کو دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

