کیا قیدی کو پیش کرنے سے عدالت اُڑ جائے گی؟ چیف جسٹس
سپریم کورٹ نے ملزم عارف گل کو حبس بے جا میں رکھنے کے مقدمے میں وزیراعظم عمران خان کو عدالت طلب کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
پیر کو مقدمے کی سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ کیا عارف گل کو لے کر آئے ہیں؟
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عارف گل حراستی مرکز ہے عدالت لانا مشکل ہے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کیا عارف گل کو پیش کرنے سے سپریم کورٹ کی عمارت اڑ جائے گی، عارف گل کو پیش نہیں کرنا تو سپریم کورٹ کو تالا لگا دیتے ہیں۔
چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ عارف گل کو آج ہی پیش کریں، عارف گل کو پیش نہ کیا تو وزیر اعظم کو بلالیں گے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کے پاس ڈیفنس کی مشینری کو بھی بلانے کا اختیار ہے۔ عارف گل کی شہریت کا معاملہ 2019 سے اب تک حل کیوں نہیں ہوا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ 2019 سے تاحال معاملہ پر انکوائری چل رہی ہے، حکومت کے دفاتر میں کرپشن ہے تو عدالت کیا کرے؟
خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ عارف گل نے افغان بارڈر ایریا کے قریب فوجی کیمپ پر حملہ کیا۔ حراستی مرکز میں عارف گل کی کونسلنگ، ووکیشنل ٹریننگ مکمل ہو چکی ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ فاٹا اب سیٹلڈ ایریا ہے۔ جس قانون کے تحت عارف گل کو حراستی مرکز میں رکھا گیا کیا وہ قانون اب موجود ہے؟
جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ فاٹا پاٹا کے علاقے اب خیبر پختونخوا میں شامل ہوچکے ہیں۔
سپریم کورٹ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کی مہلت دینے کی استدعا مسترد کر دی اور چیف جسٹس گلزار احمد نے عارف گل کا آج ہی پیش کرنے کا حکم برقرار رکھتے ہوئے سماعت میں وقفہ کر دیا۔
وقفے کے بعد عارف گل حبس بے جا کیس کی
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے بتایا گیا کہ متعلقہ حکام کو عدالتی احکامات سے آگاہ کر دیا ہے، عارف گل کو یہاں پہنچنے تک چار سے پانچ گھنٹے لگیں گے۔
عدالت نے عارف گل کو منگل کو پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

