پاکستان

عدالتی سماعت سے عدم اعتماد کی کارروائی میں تاخیر نہیں: چیف جسٹس

مارچ 21, 2022

عدالتی سماعت سے عدم اعتماد کی کارروائی میں تاخیر نہیں: چیف جسٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے دائر صدارتی ریفرنس سے عدم اعتماد کی تحریک پر پارلیمانی کارروائی میں تاخیر نہیں ہوگی۔

پیر کو عدم اعتماد کی کارروائی کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دائر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ’سیاسی جماعتوں کو آئینی اور قانونی طریقہ سے پارلیمنٹ میں اپنی طاقت دکھانی چاہیے۔‘

چیف جسٹس عمر عطا نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں تمام سیاسی جماعتیں اپنے ورکرز کو بتائیں کہ ہمیں آئین میں موجود طریقہ کار کے مطابق اس عمل کو آگے بڑھانا ہے۔ سندھ ہاؤس میں جو ہوا ہے اس سے ارکان اسمبلی کے ووٹنگ کا حق متاثر ہوا ہے۔‘

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے دائر حکومتیریفرنس پر سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے گا۔‘

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس دائر کیا ہے۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے صدر کی منظوری کے بعد پیر کو صدارتی ریفرنس دائر کیا۔

تحریک انصاف کی حکومت نے چند روز قبل منحرف ہو جانے والے اپنے ارکانِ اسمبلی کے مواخذے کے لیے یہ ریفرنس دائر کیا۔

سماعت کے دوران مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف، پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی سپریم کورٹ میں موجود تھے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے