پاکستان

ججوں کو تنخواہ دار ملازم کہنا ناقابل قبول: چیف جسٹس

مارچ 25, 2022

ججوں کو تنخواہ دار ملازم کہنا ناقابل قبول: چیف جسٹس

پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وکلا کی جانب سے ججوں پر تنقید اور اُن کو تنخواہ دار ملازم کہنا افسوسناک ہے۔

جمعے کو کمرہ عدالت نمبر ایک میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی امین کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے منعقدہ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا سپریم کورٹ میں ججز انتہائی قابل اور پروفیشنل ہیں. ججز تعیناتی کیلئے طریقہ کار متفقہ طور پر وضع کیا جا رہا ہے. ججز کیلئے قابلیت، رویے، بہترین ساکھ اور بغیر کسی خوف و لالچ کا معیار رکھا ہے. وکلاء کیس تیاری کیے بغیر عدالت سے رحم کی توقع رکھیں تو ایسا نہیں ہو سکتا ہے. ججز عدالتی وقت ختم ہونے کے بعد کئی گھنٹے تک مقدمات سنتے ہیں. ججز اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں ہم سب اللہ کو جواب دہ ہیں. عوام میں جو کچھ بھی کہا جاتا ہے وہ صرف میڈیا کیلئے ہے کسی جج کو بغیر ثبوت کے نشانہ نہیں بنایا جا سکتا ہے. بنچ تشکیل دینے کا اختیار ہمیشہ سے چیف جسٹس کا رہا ہے. احسن بھون کس روایت کی بات کر رہے ہیں؟ بیس سال سے بنچز چیف جسٹس ہی بناتے ہیں بلاوجہ اعتراضات کیوں کیے جاتے ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ رجسٹرار کی تعیناتی چیف جسٹس بہترین افسران میں سے کرتے ہیں. رجسٹرار کو قانون کا بھی علم ہے اور وہ انتظامی کام بھی کرنا جانتے ہیں. کیا آپ چاہتے ہیں انتظامی کام بھی میں کروں؟ کون سا مقدمہ مقرر ہونا ہے اور جس بنچ میں مقرر کرنا ہے یہ فیصلہ میں کرتا ہوں. ججز خود پر لگے الزامات کا جواب نہیں دے سکتے سنی سنائی باتوں پر سوشل میڈیا پر الزامات نہ لگائے جائیں. فیصلوں پر تنقید کریں ججز کی ذات پر نہیں. مفید علم کی بات کریں، یہ گفتگو کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن دل میں آئی بات کر دی ہے.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے