پاکستان

لاہور میں ایس ایچ او پر فوجی جوانوں کا تشدد، مقدمے کی درخواست

مارچ 30, 2022

لاہور میں ایس ایچ او پر فوجی جوانوں کا تشدد، مقدمے کی درخواست

لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں مبینہ طور پر فوج کے ایک میجر نے چند سپاہیوں کے ہمراہ تھانہ گلشن اقبال کے سٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) دلاور حسین کو حبس بے جا میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

تھانہ گلبرگ میں درج روزنامچے کے مطابق سب انسپکٹر (ایس ایچ او) دلاور حسین نے درخواست دی کہ وہ آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان ایک روزہ انٹرنیشنل میچ کے لیے قذافی سٹیڈیم کے گیٹ پر سکیورٹی ڈیوٹی دے رہے تھے جب جے سی او ثاقب ایک کمسن لڑکے کو لے کر آئے اور بغیر ٹکٹ کے ایمرجنسی گیٹ سے انکلوژر میں گھسنے کی کوشش کی۔

پولیس افسر کے مطابق فوجی اہلکار کو سکیورٹی رسک سمجھاتے ہوئے بغیر ٹکٹ داخل ہونے سے روکا اور لائن میں عام لوگوں کے ساتھ لگنے کے لیے کہا جس پر اُس نے بدتمیزی کی۔

پولیس روزنامچے کے مطابق مذکورہ فوجی اہلکار فون چھین کر سٹیڈیم میں چلا گیا اور پھر چند فوجی جوانوں کو لے کر آیا جنہوں نے ایس ایچ او دلاور پر گنیں تان لیں۔

شور شرابے ہونے پر لاہور کے ایس ایس پی آپریشن اور ماڈل ٹاؤن کے ایس پی موقع پر پہنچ گئے جبکہ دوسری جانب جے سی او ثاقب کی مدد کے لیے میجر اسد نامی افسر آئے اور پولیس کے مطابق انہوں نے حکم دیا کہ ایس ایچ او دلاور کو اغوا کر کے یونٹ میں لے جایا جائے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق ایس ایس پی نے فوجی افسر سے کہا کہ مسئلے کو مل بیٹھ کر حل کر لیتے ہیں مگر اس کے باوجود میجر اسد نے بآواز بلند حکم دیا کہ ایس ایچ او دلاور کو چھوڑنا نہیں۔

سب انسپکٹر دلاور حسین کے مطابق ایس ایس پی نے ان کی ڈیوٹی کا مقام بدل کر سٹیڈیم کے اندر بھیج دیا۔

درخواست گزار پولیس افسر کے مطابق رات ساڑھے آٹھ بجے اُن کو آپریٹر احتشام الحق نے اطلاع دی کہ بریگیڈیئر چیمہ بلا رہے ہیں جس کے بعد وہ سکیورٹی سرنگ میں پہنچے تو اُن پر 15 سے 20 فوجی جوانوں نے مل کر تشدد کیا۔

دلاور حسین نے درخواست میں بتایا کہ اُن پر تشدد جے سی او ثاقب کو روکنے کے باعث کیا گیا جبکہ اس کی ہدایات میجر اسد نے دیں جو ویاں نگرانی بھی کر رہے تھے جبکہ یہ سب کچھ کرنل فیصل کی ایما پر کیا گیا۔

درخواست میں مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کی استدعا کی گئی ہے.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے