عدم اعتماد کے لیے اپوزیشن کے 196 ووٹ، پی ٹی آئی کے 22 شامل
پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی ووٹنگ کے لیے 196 ارکان اسمبلی ہیں.
یہ ارکان بدھ کی شام اسلام آباد کےسندھ ہاؤس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی جانب سے منعقد کیے گئےاجلاس اور عشائیے میں شریک ہوئے۔
اجلاس کے بعد اپوزیشن اتحاد کی جانب سے کہا گیا کہ ’پی ٹی آئی کے 22 منحرف ارکان قومی اسمبلی بھی اجلاس میں شریک تھے۔‘
سندھ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں تحریک انصاف کے عامر لیاقت، نواب شیر وسیر، فرخ الطاف، نورعالم خان، راجا ریاض، رمیش کمار، باسط بخاری، افضل ڈھانڈلہ، ریاض مزاری، جویریہ ظفر آہیر اور رانا قاسم نون بھی موجود تھے۔
خیال رہے کہ فرخ الطاف وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے کزن ہیں اور 2018 کے عام انتخابات میں جہلم سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔
قبل ازیں وفاقی حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے متحدہ اپوزیشن کے ساتھ شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔
اسلام آباد میں پی ڈی ایم رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ’ہم اپوزیشن کے ساتھ چلیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم ایک تاریخی موقعے پر کھڑے ہیں اور کامیابی اور مبارک باد سے زیادہ ایک امتحان کا مرحلہ ہے جس سے قومی قیادت کو گزرنا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا یہ معاہدہ مشروط نہیں تھا عدم اعتماد میں ساتھ دینے کا، لیکن اب میں کہوں کا کہ اس تبدیلی میں ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔ ‘
مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر وزیراعظم عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

