لاپتہ افراد کی تحقیقات میں ریاست مکمل ناکام : اسلام آباد ہائیکورٹ
قائداعظم یونیورسٹی کے طالب علم حفیظ بلوچ کی بازیابی کی رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کی گئی ہے۔
جمعے کو مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ لاپتہ افراد سے متعلق کسی قسم کی تحقیقات میں ریاست مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ وفاقی حکومت ہدایات جاری کرے کہ ملک میں کسی بھی جگہ بلوچ طلبہ کو ہراساں نہ کیا جائے، قائد اعظم یونیورسٹی کے چانسلر (صدرِ مملکت)کو یقینی بنانا ہو گا کہ کسی بلوچ طالب علم کو ہراساں نہ کیا جائے۔
لاپتہ افراد کیس میں عدالتی معاون ایڈوکیٹ فیصل صدیقی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں کہا ہے کہ
شھریوں کو اغوا کرنے کا ریاستی پالیسی بننا ثابت ہو چکا ہے۔
عدالتی معاون اور سابق رکن ٹاسک فورس برائے لاپتہ افراد ایڈوکیٹ فیصل صدیقی نے کہا کہ لاپتہ افراد کے مقدمات میں عدالتیں مؤثر احکامات جاری کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
معاون نے کہا کہ ریاست کے ہاتھوں اغوا ہونے والے شھریوں کے مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی ٹریبیونل بنائے جائیں۔ سنہ ۲۰۱۱ میں بنائے گئے حراستی مراکز میں ۲۰۱۳ کے اعداد و شمار کے مطابق ۱۵۰۰ سے دو ھزار افراد رکھے گئے مگر آج وفاقی حکومت کے پاس کوئی مرکزی ڈیٹا مرکز نہیں ہے، بہت سے لاپتہ افراد ان حراستی مراکز سے برآمد ہوتے ہیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد سے متعلق دس سال پرانی جسٹس ریٹائرڈ کمال منصور کی خفیہ رپورٹ کسی وزارت میں نہیں ملی۔ لاپتہ صحافی مدثر نارو بھی نہیں ملے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالت سمجھی کہ حکومت کوئی پالیسی وضع کرے گی، کابینہ کے کون سے اجلاس میں لاپتا افراد کا معاملہ آیا؟
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم یہ تاثر دے رہے ہیں کہ حکومت کی آٹھ خفیہ ایجنسیاں حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہیں تو پھر اس کی ذمے داری چیف ایگزیکٹو پر ہے۔

