عمران خان نے اپوزیشن سے این آر او مانگا تھا: سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی تصدیق
پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ یعنی فوج کے ذمہ دار افراد نے وزیراعظم کے انٹرویو پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ تک یہ اطلاع پہنچائی ہے کہ ان سے مدد مانگی گئی جس پر جنرل باجوہ نے عمران خان سے ملاقات کی اور تین آپشنز وزیراعظم نے سامنے رکھے اسٹیبلشمنٹ نے نہیں۔
زرائع کے مطابق عمران خان کے جنرل باجوہ سے مدد مانگنے پر اُن سے پوچھا گیا تو عمران خان نے کہا کہ وہ جلد الیکشن کرا سکتے ہیں، استعفیٰ دے سکتے ہیں اور اگر عدم اعتماد کی تحریک پیش ہو گئی تو پارلیمان میں آئین کے مطابق اس کا سامنا نہیں کریں گے۔
ذرائع کے مطابق عمران خان نے استعفیٰ دینے کا آپشن مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔
فوج کے ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم کے جلد الیکشن کرانے کے آپشن کو اپوزیشن کے سامنے رکھا گیا مگر اس پر رضامندی حاصل نہ ہو سکی۔
کئی اہم سیاست دانوں نے کہا ہے کہ عمران خان نے جلد الیکشن کرانے کا اعلان کرنے کی مہلت مانگتے ہوئے عدم اعتماد کی تحریک واپس لینے کی شرط رکھی جس پر سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں تیار نہیں اور اگلے الیکشن کی تاریخ کا اعلان اب حزب اختلاف کرے گی عمران خان نہیں۔
خیال رہے کہ جمعے کو نجی ٹی وی چینل اے آر وائے کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ’مجھے اگست سے آئیڈیا ہوگیا تھا کہ میرے خلاف سازش ہو رہی ہے، میں کبھی فوج کے خلاف بات نہیں کروں گا۔‘
وزیراعظم عمران خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’مجھے اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے تین آپشنز دیے گئے۔ الیکشن، استعفیٰ اور تحریک عدم اعتماد۔‘

