سپیکر کی رولنگ کے مقدمے میں جلدی فیصلہ دینا چاہتے ہیں: چیف جسٹس
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ عدالت قومی اسمبلی کے سپیکر کی عدم اعتماد تحریک پر دی گئی رولنگ کے ازخود نوٹس میں جلدی فیصلہ کرنا چاہتی ہے تاہم تمام فریقوں کو سننا ضروری ہے۔
منگل کو مقدمے کی سماعت کے آغاز پر پیپلز پارٹی کے وکیل رضا ربانی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا بیان آیا ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر عام انتخابات کرانے کے لیے تیار نہیں۔
مقدمہ سننے والے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن ،جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندو خیل شامل ہیں۔
عدالت میں ایک خاتون وکیل درخواست گزار نے کہا کہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر رہنے والے اسد مجید کو بلایا جائے تو سب سامنے آ جائے گا۔
چیف جسٹس نے خواتین درخواست گزاروں کو بات کرنے روکتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو سنیں گے۔
رضا ربانی نے اپنے دلائل میں کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ پارلیمانی کارروائی کو کس حد تک استثنی ہے، جو کچھ ہوا اس کو سویلین مارشل لاء ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔
رضا ربانی نے عدالت کو بتایا کہ سسٹم نے ازخود ہی اپنا متبادل تیار کر لیا جو غیرآئینی ہے، ۲۸ مارچ کو تحریک عدم اعتماد کی پیش ہوئی مگر اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔
قبل ازیں سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کرتے ہوئے عدالت سے سپیکر کی رولنگ کو آئین کے خلاف قرار دینے کے لیے کہا ہے۔

