پاکستان

عدالت پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ فیصلہ نہیں کر رہی: چیف جسٹس

اپریل 6, 2022

عدالت پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ فیصلہ نہیں کر رہی: چیف جسٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ میں قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک کو رولنگ کے ذریعے مسترد کیے جانے پر لیے گئے ازخود نوٹس کی سماعت چوتھے روز بھی جاری ہے.

بدھ کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کے سامنےعمران خان کے وکیل بابر اعوان دلائل دے رہے ہیں.

سپریم کورٹ میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف ازخودنوٹس کی سماعت کے آغاز پر ن لیگ کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر نے شام کو آج کے لیے اجلاس بلایا ہے مگر اسمبلی کا عملہ ڈپٹی سپیکر کا حکم نہیں مان رہا۔

وکیل نے بتایا کہ لاہور میں حالات کشیدہ ہیں، لگتا ہے آج بھی وزیراعلیٰ کا الیکشن نہیں ہو سکے گا۔

چیف جسٹس نے کہ کہ آج بہت اہم کیس سن رہے ہیں، پنجاب اسمبلی کا معاملہ نہیں دیکھ پا رہے، کوشش ہے کہ مقدمہ کو نمٹانا جائے، عدالت پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ فیصلہ نہیں کر رہی۔ یکطرفہ فیصلہ کیسے دے سکتے ہیں؟

چیف جسٹس نے کہا پنجاب میں سیاسی طور پر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔

ڈپٹی سپیکر کے وکیل نعیم بخاری دلائل دیں گے جس کے بعد اٹارنی جنرل خالد جاوید خان عدالت کے سامنے اپنی گزارشات پیش کریں گے.

منگل کو اپوزیشن جماعتوں اور درخواست گزاروں کے وکلا نے دلائل مکمل کر لیے تھے.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے