پنجاب اسمبلی کے اجلاس کا مقدمہ ہائیکورٹ لے جایا جائے: سپریم کورٹ
سپیکر کی رولنگ کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے اجلاس کا مقدمہ لاہور ہائیکورٹ میں لے جایا جائے۔
جمعرات کو عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کو پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس نے بتایا کہ گزشتہ رات نجی ہوٹل میں ارکان صوبائی اسمبلی نے حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ بنا دیا، سابق گورنر آج حمزہ شہباز سے باغ جناح میں حلف لیں گے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ حمزہ شہباز نے بیوروکریٹس کا اجلاس بھی آج بلا لیا ہے۔
احمد اویس نے کہا کہ آئین ان لوگوں کے لیے انتہائی معمولی سی چیز ہے۔
ن لیگ کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالت کو بتایا کہ ارکان صوبائی اسمبلی عوام کے نمائندے ہیں، عوامی نمائندوں کو اسمبلی جانے سے روکیں گے تو وہ کیا کریں؟
چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دیں گے، پنجاب کا معاملہ ہائیکورٹ لے کر جائیں۔
جسٹس مظہر عالم نے پوچھا کہ کل پنجاب اسمبلی کے دروازے سیل کر دیئے گئے تھے، کیا اسمبلی کو اس طرح سیل کیا جا سکتا ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ قومی اسمبلی کے کیس سے توجہ نہیں ہٹانا چاہتے۔
چیف جسٹس نے اعظم نذیر تارڑ اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو روسٹرم سے ہٹا دیا اور ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف ازخود نوٹس کی سماعت شروع کی۔

