وکیل بابر اعوان کی عدالتی کارروائی میں مداخلت، چیف جسٹس کا سخت جواب
پاکستان کی سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 64 اے کی تشریح کے لیے دائر صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطابندیال نے سابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل بابر اعوان کو عدالتی کارروائی میں مداخلت پر ٹوکتے ہوئے سخت جواب دیا۔
منگل کو سماعت کے اختتام پر وکیل بابر اعوان نے کہا کہ وہ سب سے بڑی پارٹی اور صدر مملکت کی نمائندگی کر رہے ہیں ان کو مزید وقت دے کر سنا جائے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جب چیف جسٹس بول رہے ہوں تو آپ خاموشی سے سنیں اور عدالت میں مداخلت مت کریں۔ عدالت کے سامنے کھڑے ہو کر مت بولیں کہ بڑی پارٹی چھوٹی پارٹی۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پشتو میں اناؤنس کیا کہ ساڑھے 5بجے فیصلہ سنائیں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ وہ آئین کو دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں، عدالت کےسامنے سب برابر ہیں۔
چیف جسٹس نے بابر اعوان سے کہا کہ اگر کچھ کہنا چاہتے ہیں تو لکھ کر دے دیں، یا ہم آپ کو دو منٹ دیتے ہیں، آپ دو منٹ میں میں اپنی بات مکمل کریں۔
بابر اعوان نے کہا کہ ان کو دس منٹ دیے جائیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت پاس اتنا وقت نہیں۔ اس کے بعد عدالت اٹھ کر چلی گئی۔

