پاکستان

سرکاری استغاثہ کی تبدیلی کا ازخودنوٹس، چیف جسٹس کو معاملات پر تشویش

مئی 19, 2022

سرکاری استغاثہ کی تبدیلی کا ازخودنوٹس، چیف جسٹس کو معاملات پر تشویش

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سرکاری استغاثہ کے افسران کے تبادلے پر چیف جسٹس کے از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین نیب اور سیکریٹری داخلہ کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ ہائی پروفائل مقدمات میں پراسیکیوشن، تحقیقات برانچ میں تاحکم ثانی ٹرانسفر پوسٹنگ نہیں کی جائے گی۔

عدالت نے نیب اور ایف آئی اے کو تاحکم ثانی کوئی بھی مقدمہ واپس لینے سے روک دیا.

جمعرات کو ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے جج کا نوٹ پڑھتے ہوئے کہا کہ لاہور کی عدالت میں پراسیکیوٹر کو ہٹایا گیا۔

جج کے نوٹ کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے اور ڈاکٹر رضوان کو بھی ہٹایا گیا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے نے ایک تفتیشی افسر کو عدالت میں پیش ہونے سے منع کیا۔

انہوں نے کہا کہ پراسیکیوشن میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے، ثناء اللہ عباسی اچھی شہرت کے افسر ہیں۔

چیف جسٹس بندیال کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کے افسر ڈاکٹر رضوان کو دل کا دورہ پڑا، ان معاملات پر تشویش ہے، ایسی خبریں ایک ماہ سے دیکھ رہے ہیں۔

چیف جسٹس بندیال کے مطابق قانون کی حکمرانی پر اثر پڑ رہا ہے، اور وہ قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عدالتی کارروائی کسی کو ملزم ٹھہرانے یا شرمندہ کرنے کے لیے نہیں، سماعت قانون کی حکمرانی کے لیے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وضاحت کریں مقدمات میں مداخلت کیوں ہو رہی ہے، ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے مداخلت پر بیان بھی دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ‏کئی ہزار لوگ نئی ای سی ایل پالیسی سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق کل 4663 میں سے 3000 لوگ مستفید ہوں گے۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ‏پراسیکیوشن برانچ اور پراسیکیوشن کے عمل میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے، پراسیکیوٹر کو ہٹانے کی وجہ جاننا چاہتے ہیں۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس عمر عطا نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کا ان کے عدالت آنے پر شکریہ ادا کیا اور پوچھا کہ اٹارنی جنرل کیا آپ نے سو موٹو کیس کی پیپر بک پڑھی ہے؟

اٹارنی جنرل کی جانب سےپیپر بک نہ ملنے کے جواب پر اُن کو سو موٹو نوٹس کیس کی پیپر بک پڑھنے کے لیے فراہم کی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پیپر بک کا دوسرا اور تیسرا پیراگراف پڑھ لیں۔ سو موٹو کا بیک گراؤنڈ آپ نے پڑھ لیا۔

چیف جسٹس نے اس کے بعد ڈی جی ایف آئی اے کی تعریفیں کیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایف آئی اے نے ان معاملات کے تردید نہیں کی۔ ایف آئی اے کا موقف ہے یہ روٹین کے معاملات ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت ان اقدامات کی وضاحت کرنے میں تعاون کرے گی۔

چیف جسٹس کے مطابق اپریل اور مئی میں کئی اخباری خبروں کو پیپر بک میں شامل کیا گیا ہے اور خبروں کے مطابق نیب کا فوجداری ریکارڈ غائب ہونا شروع ہو گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کے چار مقدمات میں ریکارڈ گم ہونے کی خبر بھی ہے، اٹارنی جنرل ان معاملات میں ہماری مدد کریں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جج کو اپنی زمہ داریوں سے اگاہ ہونا چاہیے۔ ججز کو بڑا محتاط ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ججز کو قانون کے مطابق فرائض سمجھنے ہیں۔

عدالت نے صوبائی پراسیکیوٹر جنرلز اور سربراہ پراسیکیویشن ڈیپارٹمنٹ ایف آئی اے کو بھی نوٹس جاری کیا۔

لیگل ڈائریکٹر ایف آئی اے کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئےتمام افسران سے کہا گیا کہ اپنے تحریری جوابات جمع کروائیں۔

جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت میں تحریری درخواست دی اور عدالت کو بتایا کہ انہیں پیش نہ ہونے کا کہا گیا۔

جسٹس مظاہر نقوی کے مطابق پراسیکیوٹر کو کہا گیا جو بندہ وزیر اعلیٰ اور وزیراعظم بننے والا ہے اس کے مقدمہ میں پیش نہ ہوں۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ بظاہر یہ ٹارگٹڈ ٹرانسفر پوسٹنگ کیے گئے۔ اس پر تشویش ہے, اس لئیے چیف جسٹس نے سو موٹو نوٹس لیا آپ تعاون کریں۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ ایف آئی اے کے پاس ان تبادلوں کی کوئی معقول وجہ ہوگی۔

جسٹس نقوی نے کہا کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کیلئے درخواست دینا پڑتی ہے، سینکڑوں لوگوں کی درخواستیں پینڈگ پڑی رہتی ہیں۔

جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا گیا؟

چیف جسٹس نے کہا ان کی تشویش صرف انصاف فراہمی کی وجہ سے ہے۔ تحقیقاتی عمل کے وقار, عزت عزت اور تکریم برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وہ یہ سب پوائنٹ سکورنگ کے لیے نہیں کر رہے اور کسی قسم کی تنقید سے متاثر نہیں ہوں گے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ آئین اور اللہ کو جوابدہ ہیں، ہمیں تعریف کی ضرورت نہیں، ہمیں تنقید کا بھی کوئی خوف نہیں۔

چیف جسٹس کے مطابق صرف انصاف کی فراہمی چاہتے ہیں جو اندراج مقدمہ سے فیصلہ پر ختم ہوتی ہے، سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا سیل بہت مضبوط ہیں، ہم خاموش تماشائی بن کر یہ چیزیں نوٹ کرتے رہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے