پاکستان

وزیراعظم منی لانڈرنگ کیس میں پیش، ’پراسیکیوشن 4 ماہ کیوں خاموش رہی‘

مئی 21, 2022

وزیراعظم منی لانڈرنگ کیس میں پیش، ’پراسیکیوشن 4 ماہ کیوں خاموش رہی‘

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اپنے خلاف جاری منی لانڈرنگ کیس میں لاہور کی مقامی عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔

سنیچر کو لاہور کی سپیشل کورٹ سینٹرل میں پیش ہو کر شہباز شریف نے کہا کہ وہ عدالتی وقار اور قانون کی حکمرانی کے لیے آئے ہیں۔

سپیشل سنٹرل کورٹ میں منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے پراسکیوٹر نے تین اشتہاری ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کی درخواست دی۔

ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے عدالت میں استدعا کی کہ جب تک تمام ملزمان اکھٹے عدالت میں حاضر نہیں ہوتے فرد جرم عائد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

خصوصی عدالت کے جج نے ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ چار ماہ پراسیکیوشن کیوں خاموش رہی؟

ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ وہ اب آئے ہیں اور عدالت کی معاونت کریں گے۔ تمام ملزمان کو اکھٹا کر کے فردِ جرم عائد کی جائے۔

پراسکیوٹر کا عدالت میں کہنا تھا کہ اگر اس کیس کو ایسے ہی لے کر چلیں گے تو آگے جا کر ملزمان کو فائدہ ہو سکتا ہے۔
جج نے ریمارکس دیے کہ ’یعنی آپ کہہ رہے ہیں پچھلی پراسیکیوشن نے چار ماہ ملزمان کو فائدہ دیا؟‘

شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنہ 2008 سے 2018 کے دوران منی لانڈرنگ کے الزامات لگائے گئے۔

وکیل کے مطابق بہت سارے الزامات کو پراسیکیوشن کی ٹیم نے خود ہی چالان میں ختم کر دیا ہے۔

شہباز شریف کے وکیل کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے کہا گیا کہ فیک کمپنیز کے ذریعے معاملات کو چلایا گیا۔ کہا گیا کہ ایک اکاؤنٹ میں دو ارب سے زائد کی ٹرانزیکشنز ہوئیں۔

وکیل امجد پرویز نے بتایا کہ سابقہ تفتیشی ٹیم نے ایف آئی اے میں جو الزامات لگائے ان میں سے متعدد الزامات کو چالان میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔

امجد پرویز نے کہا کہ ایف آئی آر اور چالان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ شہباز شریف کے خلاف ساری تحقیقات کی سربراہی سابق مشیر احتساب نے کی۔

وزیراعظم شہباز شریف عدالت کے روسٹرم پر آئے اور کہا کہ لندن کرائم ایجنسی نے تحقیقات کیں اور خدانخواستہ ایک دھیلے کی بھی کرپشن کی ہوتی تو لندن نہ جا سکتا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انہوں نے پبلک سروس میں ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی۔ دبئی، فرانس، سوئٹزر لینڈ میں ان کے خلاف تحقیقات کروائی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’پونےدو سال تحقیقات ہوئیں ایک روپیہ کرپشن ثابت نہ ہو سکا۔ جلاوطنی میں تھا تو لندن اور امریکہ میں قیام کیا۔ میرے پاس حرام کا پیسہ نہیں تھا۔ میرے تمام اثاثے ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہیں۔‘

شہباز شریف نے کہا کہ برطانیہ میں رہا کشکول تو نہیں اٹھانا تھا وہاں کاروبار کیا۔ میرے خلاف کرپشن کے سیاسی کیسز بنائے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ دس سال پنجاب کا وزیراعلیٰ رہا ایک روپیہ تنخواہ نہیں لی۔ 60 کڑور روپے کی تنخواہ بنتی ہے۔ سرکاری دورے بھی اپنی جیب سے کیے۔ سرکاری گاڑی میں پٹرول بھی اپنے جیب سے ڈالواتے تھے۔

عدالت کے اندر اور باہر سخت سکیورٹی کے باعث جج نے برہمی کا اظہار کیا اور پولیس افسران کو طلب کر کے پوچھا کہ کیا سکیورٹی کا یہ مطلب ہے کہ عدالت کے کام میں رکاوٹ پیدا کی جائے؟

ایس پی سول لائنز نے کہا کہ وہ آئندہ ایسا نہ ہونے کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ یہ رابطے کے فقدان کے باعث ہوا.

جج نے کہا کہ آئندہ کو چھوڑیں آج کی بات کریں اور تحریری طور پر بتائیں کہ کس نے جج کی گاڑی روکی۔

جج نے شہباز شریف سے کہا کہ وہ یہاں بھی وزیراعظم ہیں، حکم جاری کریں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے