پاکستان

پنجاب میں وزیراعلیٰ اور سپیکر کی رسہ کشی، اسمبلی اجلاس میں کیا ہوا؟

مئی 22, 2022

پنجاب میں وزیراعلیٰ اور سپیکر کی رسہ کشی، اسمبلی اجلاس میں کیا ہوا؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں وزیراعلیٰ حمزہ شہباز اور سپیکر پرویز الہیٰ کے درمیان رسہ کشی جاری ہے اور اتوار کو کئی گھنٹوں تک ڈرامائی کشمکش کے بعد صوبائی اسمبلی کا اجلاس مختصر دوارنیے کے لیے منعقد ہوا جس میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ارکان کی عدم موجودگی کو دیکھتے ہوئے یکطرفہ کارروائی کی گئی۔

پینل آف چیئر کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں سپیکر کے خلاف پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک مذکورہ رکن کی عدم موجودگی کی بنیاد پر ختم جبکہ ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

سپیکر پرویز الٰہی اور ان کے صاحبزادے مونس الٰہی اجلاس کے وقت درجنوں اراکین اسمبلی کو لے کر پہنچے، جبکہ حکومتی ارکان اجلاس میں شریک نہ ہوئے۔

پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے پر سپیکر صوبائی اسمبلی پرویز الٰہی اور ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کے خلاف تحاریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ایجنڈے کا حصہ تھیں۔

سپیکر پرویز الٰہی کی جانب سے اچانک اجلاس طلب کرنے کے بعد اسمبلی کی عمارت کے اطراف میں بڑی تعداد میں پولیس کو تعینات کر دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ پرویز الہیٰ نے تین بار اجلاس کی تاریخ تبدیل کیا اور ایسا وہ بظاہر ن لیگ کی حکومت کو نہ چلنے دینے کے لیے کر رہے ہیں۔

اتوار کو اجلاس سے قبل اسمبلی کے سٹاف اور صحافیوں کو بھی عمارت کے اندر داخل ہونے سے روکا گیا تھا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑر نے لاہور میں پریس کانفرنس میں سپیکر پرویز الٰہی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے اس ایوان کی بے حرمتی کی عادت بنا لی ہے۔‘

’آپ کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی۔ آئین کے مطابق سات دنوں کے اندر اس پر ووٹنگ کرانا لازم ہے، لیکن آپ نے کئی بار اجلاس بلا کر ملتوی کیا، کیونکہ آپ چاہتے تھے کہ ایسا دن آئے جس میں دنگا فساد ہو اور آپ تحریک عدم اعتماد سے بچ جائیں۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے