لاہور سے اغوا کی گئی طالبہ عارف والہ سے بازیاب
�لاہور کے علاقہ شاد باغ سے اغواء کی گئی طالبہ کو پولیس نے عارف والا سے بازیاب کرا لیا ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ امیر بھٹی نے لڑکی کی بازیابی پر آئی جی پنجاب کے اقدامات کی تعریف کی اور سی سی پی او لاہور کے اقدامات کو سراہا۔
آئی جی پنجاب نے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور کامران عادل کو کیس کی تفتیش اپنی نگرانی میں کرانے کی ہدایت کی۔
کیس کی انویسٹی گیشن بارے روزانہ کی بنیادوں پر آئی جی پنجاب کو بریف کیا جائے گا۔
آئی جی پنجاب نے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کو طالبہ اور اس کی فیملی سے قریبی رابطہ رکھنے اور ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے حکم کے باوجود شہر سے اغوا ہونے والی طالبہ کو بازیاب نہ کروائے جانے پرعدالت نے پولیس کے سربراہ کو عہدے سے ہٹانے کے ریمارکس دیے تھے۔
اتوار کی شام چیف جسٹس نے اغوا کے واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کو رات آٹھ بجے عدالت طلب کیا تھا اور حکم دیا تھا کہ آئی جی پنجاب بچی کو بازیاب کروا کر خود عدالت میں لے کر آئیں۔
چیف جسٹس نے طالبہ کے بازیاب نہ کیے جانے پر برہمی کا اظہار کیا۔
آئی جی پنجاب نےبتایا تھا کہ بچی کی ساہیوال میں تلاش کی جا رہی ہے۔
چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے کہا تھاکہ ’رات دس بجے تک بچی کو بازیاب کروا لیں ورنہ عہدے پر نہیں رہیں گے۔‘

