پاکستان

سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو اسلام آباد میں احتجاج کی اجازت دیدی

مئی 25, 2022

سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو اسلام آباد میں احتجاج کی اجازت دیدی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے راستوں کی بندش کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئےتحریک انصاف کو اسلام آباد کی سری نگر ہائی وے سے متصل ایچ نائن سیکٹر کے گراؤنڈمیں احتجاج کی اجازت دے دی ہے.

عدالت نے حکومت کو تحریک انصاف کو احتجاج کے لیے سکیورٹی دینے کی بھی ہدایت کی ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو رکاوٹیں ہٹانے کی یقین دہانی کرائی۔

سپریم کورٹ نے تمام گرفتار رہنماؤں، کارکنان اور وکلاء کو فوری رہا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

قبل ازیں عدالت نے اسلام آباد کے چیف کمشنر کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے لیے متبادل جگہ اور مناسب انتظامات کی تجویز کے ساتھ عدالت آنے کی ہدایت کی.

جس کے بعد اسلام آباد انتظامیہ اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں میں مذاکرات ہوئے اور ایک معاہدے پر اتفاق ہوا جو عمران خان کی منظوری سے مشروط کیا گیا.

بدھ کو سپریم کورٹ نے لانگ مارچ کے باعث راستوں کی بندش کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو طلب کیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بینچ کے سامنے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف پیش ہوئے۔

بینچ سربراہ نے کہا کہ اسلام اباد میں تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ جبکہ سکولز اور ٹرانسپورٹ بند ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے آبزرویشن دی کہ معاشی لحاظ سے ملک نازک دور میں ہے اور اگر یہی صورت حال رہی تو مزید تنزلی ہوگی۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت معیشیت سے متعلق آبزرویشن دینے سے گریز کرے۔
جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ملک میں جو ہو رہا ہے وہ سب کو نظر آ رہا ہے، کیا ہر احتجاج پر پورا ملک بند کر دیا جائے گا؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پریس رپورٹس کے مطابق تمام امتحانات ملتوی، سڑکیں اور کاروبار بند کر دیے گئے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان کو تفصیلات کا علم نہیں، معلومات لینے کا وقت دیا جائے۔

جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب کیا آپ کو نظر نہیں آ رہا ملک میں کیا حالات ہیں؟ سپریم کورٹ کا آدھا عملہ راستے بند ہونے کی وجہ سے پہنچ نہیں سکا۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ سکولز کی بندش کے حوالے سے شاید آپ میڈیا رپورٹس کا حوالہ دے رہے ہیں،
میڈیا کی ہر رپورٹ درست نہیں ہوتی۔

جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ سکولز کی بندش اور امتحانات ملتوی ہونے کے سرکاری نوٹفکیشن جاری ہوئے ہیں.

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ماضی میں بھی احتجاج کے لیے جگہ مختص کی گئی تھی، میڈیا کے مطابق تحریک انصاف نے احتجاج کی اجازت لینے کی درخواست دی تھی۔ بنیادی طور پر حکومت کاروبار زندگی ہی بند کرنا چاہ رہی ہے۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ خونی مارچ کی دھمکی دی گئی ہے، بنیادی طور پر راستوں کی بندش کے خلاف ہوں لیکن عوام کی جان و مال کے تحفظ کیلئے اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے