لانگ مارچ جاری، رکاوٹوں اور شیلنگ کے دوران پی ٹی آئی اور حکومت میں معاہدے کی تردید
پشاور اور لاہور سے تحریک انصاف کا لانگ مارچ اسلام آباد کی جانب جاری ہے اور اس دوران لاہور سمیت کئی شہروں میں کارکنوں کی پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔
سپریم کورٹ میں تحریک انصاف اور حکومتی وکلا کی جانب سے احتجاج کے لیے جگہ مختص کرنے اور شہری زندگی کو متاثر نہ کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی جبکہ عدالت کے باہر دونوں جانب سے رہنماؤں نے کسی بھی معاہدے کی تردید کی ہے۔
ادھر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے لانگ مارچ کے نام پر فتنہ فساد شروع کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’پنجاب پُرسکون ہے، میں پنجاب کے عوام کا اس فتنہ فساد کا حصہ نہ بننے پر شکرگزار ہوں‘
رانا ثنااللہ نے کہا کہ ’چند سو لوگ جو اس فساد کا حصہ بنے ان کی ہدایت کے لیے دعاگو ہوں۔ُ
رانا ثنااللہ کے بقول لیڈروں نے خودساختہ خبریں چلوائیں کہ انہیں گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بتی چوک پر 250 کے قریب افراد آئے اور پولیس سے آنکھ مچولی کے بعد واپس چلے گئے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ صرف خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کے افراد کا جتھا ہے، کے پی سے آنے والوں کے پاس محکمہ زراعت کی مشینری اور اسلحہ ہے۔

