سپریم کورٹ میں وزیراعظم کے وکیل عرفان قادر پیش، ججز اٹھ کر چلے گئے
پاکستان کی سپریم کورٹ میں حکومتی فیصلوں کے دفاع کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے عرفان قادر کو وکیل کیا ہے جبکہ عدالت نے اُن کو تحریری دلائل جمع کرنے کی ہدایت کی۔
جمعے کو سپریم کورٹ میں پراسیکویشن اور تحقیقات میں مبینہ حکومتی مداخلت پر لیے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کی تو عرفان قادر نے دلائل پیش کرنے کی اجازت چاہی۔
ججز نے کابینہ کی جانب سے ایگزٹ کنٹرول فہرست (ای سی ایل) کے رولز میں ترامیم پر تحفظات کا اظہار کیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایف آئی اے کی رپورٹ کے بارے میں بتایا جائے۔ اٹارنی جنرل صاحب! بتائیں کہ ای سی ایل رولز کی سیکشن دو میں کیسے ترمیم کی گئی؟
چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا ترمیم کرتے وقت متعلقہ اداروں سے مشاورت کی گئی، کرپشن سمیت دیگر چیزوں کو نکال کر رولز بدل دیے گئے۔
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ وہ لوگ کیسے ای سی ایل رولز بدل سکتے جو خود بینیفشریز ہوں، جن کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ہیں وہ خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟
وکیل عرفان قادر نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کے سامنے پیش ہو کر بتایا کہ ملک میں اس وقت دو جماعتوں کی لڑائی ہے اور بظاہر سپریم کورٹ دونوں جماعتوں کے بیچ میں ہے۔
عدالتی بینچ نے اس موقع پر سماعت ختم کرنے کا اعلان کیا اور ججز کرسیوں سے اٹھ کر چیمبر میں چلے گئے۔

