ملتان سے کراچی کی ٹرین میں مسافر خاتون سے اجتماعی زیادتی، دو ملزمان گرفتار
پاکستان ریلویز ہیڈکوارٹرز لاہور سے جاری بیان کے مطابق
27 مئی کو ملتان سے کراچی جانے والی زکریا ایکسپریس جو پرائیویٹ مینجمنٹ گروپ کے تحت چلائی جا رہی ہے میں افسوسناک مسافر خاتون سے اجتماعی زیادتی کا واقعہ پیش آیا۔
بیان کے مطابق اورنگی ٹاؤن کراچی کی رہائشی مسماۃ ف، 27 مئی کو ملتان سے کراچی جانے والی ٹرین زکریا ایکسپریس میں بیٹھیں۔ روہڑی اسٹیشن کے بعد عملے میں سے ایک زاہد نے اسے ان کے ساتھ ان کے کمپارٹمنٹ اے سی بزنس میں بیٹھنے کو کہا جہاں ٹرین کا مینیجر عاقب پہلے سے موجود تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ زاہد، عاقب اور عملے کے تیسرے رکن ذوہیب نے ان سے زیادتی کی۔ جب ٹرین کراچی سٹی سٹیشن پر پہنچی تو ان کو لینے کوئی نہ پہنچا چنانچہ مسماۃ ف پلیٹ فارم کے بینچ پر بیٹھ گئیں۔
سٹی سٹیشن پر ڈیوٹی پر موجود ریلوے پولیس اہلکار نے ان سے کسی بھی مسئلے اور درکا مدد کے بارے میں پوچھنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے ریلوے پولیس اہلکار سے اپنی آزمائش یا کسی واقعے کے بارے میں کچھ ذکر نہیں کیا۔
جب مسماۃ ف کچھ دیر تک وہیں بیٹھی رہیں تو ریلوے لیڈی پولیس انہیں پولیس سٹیشن ہیلپ سنٹر لے آئی۔ وہاں امدادی مرکز کے اہلکار نے ان کی بہن مس حنا سے رابطہ کر کے ان کو اطلاع دی جو اپنے شوہر کے ساتھ تھانے پہنچیں جس کے بعد مسماۃ ف ان کے ساتھ چلی گئیں۔
اس موقع پر مسماۃ ف نے کسی طرح کا کوئی واقعہ نہ تو رپورٹ کیا نہ ہی قانونی کاروائی کی درخواست کی۔
بعد ازاں ایک مقامی اخبار میں خبر شائع ہونے پر ڈویژنل سپرنٹینڈنٹ کراچی نے مسماۃ ف سے رابطہ کر کے انہیں معاملہ رپورٹ کرنے کی درخواست کی۔ اور اس کے بعد مسماۃ ف کا ڈی سی او ریلوے اور لیڈیز پولیس کے سامنے بیان ریکارڈ کرایا گیا۔
ان کی رپورٹ پر مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلوے کو سارے واقعے کی رپورٹ پیش کر دی گئی ہے۔
عملے کے ارکان پرائیویٹ شعبہ سے ہیں اور آئی جی ریلوے پولیس نے اس ضمن میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلوے نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں ایکشن ہوتا ہوا نظر آئے گا اور واقعے میں ملوث کسی شخص کو نہیں چھوڑا جائے گا۔
وزیر ریلوے اور چیئرمین ریلوے نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور ریلوے انتظامیہ اور ریلوے پولیس کو نامزد ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت جاری کی ہے۔
انہوں نے پرائیوٹ (outsourced) ٹرینوں میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
اطلاع کے مطابق دو ملزمان گرفتار کر لیے گئے ہیں اور تیسرے کی گرفتاری کے لیے ریلوے پولیس کی ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں۔

