مقدمہ بے بنیاد، والدہ کی دو بار آرمی چیف سے تلخی ہوئی تھی: ایمان مزاری
پاکستان کی سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے فوج اور اس کی قیادت کے خلاف تضحیک آمیز بیانات کے مقدمے میں تحریری جواب جمع کراتے ہوئے اپنے ردعمل کو ذہنی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
بدھ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کو ایمان مزاری نے بتایا کہ پولیس کے سامنے پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرایا ہے۔
بیان میں پولیس کو بتایا ’21 مئی کو میری والدہ شیریں مزاری کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا اور اس غیر قانونی اقدام سے قبل میری والدہ نے مجھے بتایا تھا کہ ان کا آرمی چیف کے ساتھ دو مرتبہ تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس نتیجے میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے۔‘
تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ ’ایف آئی آر میں درج الزامات بدنیتی پر مبنی ہیں۔ میرے خلاف درج مقدمہ بے بنیاد اور قانون کا غلط استعمال ہے۔‘
ایمان مزاری نے عدالت کو بتایا کہ وہ تفتیشی افسر کے سمن کرنے پر 30 مئی کو شامل تفتیش ہوئیں۔ ’مجھے دو ویڈیوز دکھائی گئیں جن میں سے ایک اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر جبکہ دوسری عدالتی احاطے کی تھی۔‘
اتحریری بیان کے مطابق ’21 مئی کو میری والدہ کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا اور میں مقامی پولیس سٹیشن پہنچی۔ تاہم مجھے متعدد بار پولیس حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ میری والدہ ان کی حراست میں نہیں اور انہیں ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔ پولیس کے ان بیانات اور میری والدہ کے بتائے گئے خدشے کے بعد ان کی غیر قانونی گرفتاری کے روز میں نے جس شک کا اظہار کیا اسے کسی جرم میں معاونت کی کوشش نہیں کہا جا سکتا۔‘
ایمان مزاری کے مطابق ’میں نے پاکستان کی فوج کے سپاہیوں کو ان کی قیادت کے خلاف بغاوت پر اکسایا نہ کوئی معاونت کی۔ مجھ پر یہ الزام مضحکہ خیز ہے کہ اپنی ماں کی گمشدگی کے وقت میرا ارادہ بغاوت کرانا تھا۔ یہ میرا حق تھا کہ میں معلومات کی بنیاد پر شک کا اظہار کروں۔‘
انہوں نے کہا کہ ‘دوران تفتیش مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا شدت پسندوں کے ساتھ بھی کوئی رابطے ہیں؟ میں نے شدت پسندوں کے ساتھ کسی قسم کے رابطوں کی سختی سے تردید کی ہے۔ میں پرامن، غیر مسلح شہری ہوں اور کسی بھی شکایت کے ازالے کے لیے ہمیشہ قانونی رستہ اختیار کیا ہے۔‘
اس سے قبل بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کے کے مقدمے کو ختم کرنے کی درخواست پر سماعت کے دوران ایمان مزاری کی وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ’جو کچھ بھی کہا گیا وہ بدنیتی پر مبنی نہیں تھا۔ درخواست گزار کی والدہ کو اٹھایا گیا اور وہ حالات ایسے تھے جس میں جو کہا گیا وہ ذہنی دباؤ کی وجہ سے تھا۔‘
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ درخواست میں تو لکھا گیا ’جو پاکستان آرمی کے خلاف کہا گیا وہ جان بوجھ کر نہیں کہا گیا۔ اگر آپ کا یہ بیان ہے تو ادارے کو تو شکایت واپس لینا چاہیے۔‘
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت، آئی جی اسلام آباد، پاکستان فوج کے جیگ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر فریقوں کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت 9 جون تک ملتوی کر دی۔

