پارک ویو سوسائٹی کیس،سپریم کورٹ کی ضلعی انتظامیہ کو حد بندی کی ہدایت
سپریم کورٹ نے پارک ویو سوسائٹی کیس میں اسلام آباد انتظامیہ کو سڑک کی تعمیر کیلئے حد بندی کی ہدایت کر دی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ درست ہے کہ سی ڈی اے ابھی سویا ہوا ہے.
سپریم کورٹ میں پارک ویو سوسائٹی کی این او سی منسوخی کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی.
سپریم کورٹ نے پارک ویو سوسائٹی کو اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے سے ملکر راستہ ریگولر کرانے کی ہدایت کر دی ،سی ڈی اے چاہے تو پارک ویو پر قانون کے مطابق جرمانہ کرسکتا ہے.
عدالت کی سی ڈی اے کو متاثرین کو ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت اسلام آباد انتظامیہ تعین کرے پارک ویو نے کسی کی زمین پر قبضہ کیا ہے یا نہیں.
وکیل پارک ویو سوسائٹی نے موقف اپنایا کہ ہائیکورٹ احکامات کی وجہ سے بجلی اور گیس کے میٹر نہیں لگ رہے.
چیف جسٹس نے کہا کہ اپنی نیک نیتی دکھانے کیلئے الاٹ شدہ مقام پر سڑک کی تعمیر شروع کریں،الاٹ شدہ زمین کا جو حصہ متنازع نہیں وہاں سڑک بنانی شروع کریں .
پارک ویو کے وکیل نے موقف اپنایا کہ سی ڈی اے متاثرین کے ساتھ مسئلہ حل کرے تو فوری تعمیر شروع ہو جائے گی.
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ متاثرین کا مسئلہ حل کرنے میں پارک ویو سے زیادہ جلدی کسی کو نہیں ہو سکتی، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم درست نہیں، سی ڈی اے بھی سویا ہوا ہے.
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پارک ویو نے غیر قانونی کام اور سی ڈی اے مجرمانہ غفلت دکھائی،عدالت مسئلہ حل کرنے کی کوشش میں پھنس گئی ہے،اثاثے بنانا معیشت کیلئے بہت ابھی چیز ہے،اثاثے غلط بنے ہوں تو قصور بنانے والے کا ہوتا ہے.
چیف جسٹس نے کہا کہ جو گھر بن چکے ہیں انہیں گرانا مسئلے کا حل نہیں ہے،جو تعمیرات ریگولر ہو سکتی ہیں انہیں کرنا چاہیے.
جسٹس محمد مظہر علی نے ریمارکس دیئے کہ نسلہ ٹاور کا بھی مسئلہ سڑک کا ہی تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے تو قرار دیا کہ سب کچھ مسمار کر دو ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے سوموٹو کا اختیار کیسے استعمال کر لیا، ہائیکورٹ کے حکم پر مقدمہ بھی درج نہیں ہوا،مقدمہ درج ہو جاتا تو حقائق سامنے آ جاتے.
وکیل پارک ویو نے کہا کہ نیشنل پارک کی زمین کسی سوسائٹی کو الاٹ نہیں ہو سکتی.
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قانونی حل نکل رہا ہو تو اس پر فوکس کرنا چاہیے،پارک ویو نے سڑک بنا کر سی ڈی اے کا بھلا کیا، بے قاعدگیاں ہوتی رہتی ہیں، کیس کہیں سے شروع ہوتا ہے پہنچ کہیں اور جاتا ہے،جس زمین کا مسئلہ ہے اسے ریگولر کریں اور انہیں جرمانہ ٹھوکیں،متاثرین کا اگر کوئی بند راستہ ہے تو انتظامیہ سے رجوع کریں.
عدالت نے مزید سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی.

